data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251029-01-25
کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ کے ساتھ ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ ای چالان سسٹم کے نام پر عوام کو لوٹا جا رہا ہے۔ کل ہی اس نظام کے افتتاح کے بعد صرف 6 گھنٹے میں سوا کروڑ روپے کے چالان کیے گئے۔ کراچی کی سڑکیں کچے کے علاقوں سے بھی بدتر ہیں لیکن جرمانے عالمی معیار کے مقرر کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب میں یہی جرمانے 10 گنا کم ہیںجبکہ سندھ حکومت عوام کو شعور دینے کے بجائے صرف جرمانوں سے خزانہ بھرنے میں لگی ہے۔رواں سال کراچی میں 700 شہری ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہوچکے ہیں اور 10 ہزار سے زاید زخمی ہوئے ہیں۔ بھاری گاڑیوں کی وجہ سے 205 اموات ہوئیں۔ ٹینکر، ٹرالر اور ڈمپر عوام کے لیے موت کا پروانہ بن چکے ہیں۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ ٹریفک کے نظام اور ای چالان کے سسٹم کا از سر نو جائزہ لیا جائے ۔انہوں نے کے الیکٹرک کی نااہلی و ناقص کارکردگی کے حوالے سے کہا ہے کہ نیپرا کی جانب سے جماعت اسلامی کی نظر ثانی اپیل پر بجلی کا ٹیرف 7 روپے 60 پیسے کم کیے جانے کے بعد کے الیکٹرک کی چیخیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں۔گزشتہ 20برس میں عوام پر بجلی کے بم گرانے والا سب سے بڑا پاور سیکٹر مافیا بن چکا ہے، سی ای او مونس علوی لوڈشیڈنگ اور بلیک آؤٹ کی دھمکیاں دے کر عوام کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔کے الیکٹرک اب قومی خزانے پر بوجھ بن چکی ہے، اس کے لائن لوسز ملک کی سرکاری ڈسکوز سے بھی زیادہ ہیں۔ جماعت اسلامی نے پہلے دن سے اس ادارے کے مظالم کے خلاف آواز بلند کی ہے، ہم عدالتوں اور نیپرا کی سماعتوں میں عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی کو ظالمانہ لوڈشیڈنگ سے نجات دی جائے، بلوں میں شامل بھاری ٹیکسز ختم کیے جائیں اور کے الیکٹرک کا فرانزک آڈٹ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کی نجکاری اس وعدے کے ساتھ کی گئی تھی کہ عوام کو سستی بجلی اور لوڈشیڈنگ سے نجات ملے گی، مگر آج اس موسم میں بھی 18،18گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ پچھلے 20 سال میں کے الیکٹرک کو 900 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔ اگر جماعت اسلامی کی اپیل پر ٹیرف میں کمی نہ کی جاتی تو ہر سال 127 ارب روپے مزید کے الیکٹرک کو سبسڈی کی مد میں دیے جاتے۔ یہ کامیابی کراچی کے عوام کی ہے۔انہوں نے ریڈ لائن منصوبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ اہل کراچی کے لیے خطرے کی علامت بن چکا ہے۔ چند دن قبل صفورہ ٹاؤن کا20سالہ نوجوان دانش جیوانی، 6ماہ پہلے یونیورسٹی روڈ پر بی آر ٹی کے گڑھے میں گرکر کومے میں چلاگیا اس کے چند دن بعد نوجوان اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھا۔ ریڈ لائن کے اطراف سڑکیں تباہ ہیں، گٹر بہہ رہے ہیں، مین ہول کھلے ہوئے ہیں اور ملبے کے ڈھیر نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔503 ملین امریکی ڈالر کے اس منصوبے کی تکمیل کی کوئی ڈیڈ لائن نہیں۔ جماعت اسلامی کی ریڈ لائن کے حوالے سے تحریک جاری ہے، ٹرانس کراچی کے حکام سے ملاقاتیں اور عوامی رابطہ مہم تسلسل سے جاری ہے۔منعم ظفر خان نے کہا کہ قابض میئر کے وعدے کو یاد دلاتے ہوئے کہاکہ مرتضیٰ وہاب نے 60 دن میں مرمت کا وعدہ کیا تھا، مگر وہ کبھی جاپان اور کبھی دبئی میں مصروف دکھائی دیتے ہیںجبکہ جہانگیر روڈ سمیت پورا شہر کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے۔ سڑکوں میں گڑھے ہیں، پانی جمع ہے، کریم آباد انڈر پاس، 7000 فٹ روڈ، اور ایم ایم عالم روڈ تباہ حال ہیں۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ 21، 22 اور 23 نومبر کو لاہور میں جماعت اسلامی کا اجتماع عام‘‘بدل دو نظام ‘‘کے عنوان سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوامِ پاکستان، بالخصوص اہل کراچی سے اپیل کی کہ وہ اپنی فیملیز کے ہمراہ اس اجتماع میں بھرپور شرکت کریں اور ظلم کے اس نظام کے خلاف جماعت اسلامی کی جدوجہد کا حصہ بنیں۔پریس کانفرنس میں نائب امیر کراچی راجا عارف سلطان ،ڈپٹی سیکرٹری یونس بارائی ، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری،پبلک ایڈکمیٹی کے سیکرٹری نجیب ایوبی اورنائب صدر وانچارج کے الیکٹرک سیل عمران شاہد بھی موجود تھے ۔

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

 

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کی کے الیکٹرک انہوں نے ریڈ لائن عوام کو

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی