1971 کی جنگ، پاکستان آرمی کے جوانوں کی بہادری کی لازوال داستانیں
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
1971 کی جنگ میں مشرقی اور مغربی محاذوں پر پاکستان آرمی کے جوانوں نے بہادری کی لازوال داستانیں رقم کیں۔
پاک فوج کے لیفٹیننٹ کرنل سلمان بیگ (ریٹائرڈ)نے 1971 کی جنگ کی آپ بیتی سناتے ہوئے کہا کہ 1971 میں بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کر کے جنگ کا آغاز کیا۔ میری یونٹ اس وقت مہرپور، جیسور سیکٹر میں تعینات تھی۔
انہوں نے بتایا کہ 1971 کی جنگ کے دوران مجھے چارلی کمپنی میں تعینات کیا گیا، چارلی کمپنی کے کمانڈر میجر زاہد الاسلام انتہائی بہادر اور نڈر تھے۔ 9 دسمبر کو بریگیڈ کمانڈر اور کمانڈنگ آفیسر نے اطلاع دی کہ بھارتی فوج کشتیا کے علاقے کی طرف حملہ کرنے آ رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے اس جانب مارچ کرنا شروع کر دیا جہاں سے بھارتی فوج حملہ آور ہوئی، ہمارے کمانڈر نے دیکھا کہ بائیں جانب سے گولہ باری شروع ہو گئی ہے۔ دائیں جانب سے دشمن کے ٹینک نمودار ہوئے اور دونوں جانب سے فائرنگ شروع ہو گئی، ہمارے کمانڈر میجر زاہد الاسلام نے کہا کہ دیوار کو عبور کر کے ہم اسی جانب حملہ شروع کرتے ہیں۔
ہماری یونٹ کو دیکھ کر بھارتی افواج وہاں سے پیچھے ہٹ گئیں۔ الحمدللہ، اللہ نے دشمن کے دل میں خوف ڈال دیا اور یہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ بھارتی افواج خوف و ہراس کے مارے بھاگنا شروع ہوگئیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل کی جنگ
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔