کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرانا چاہتے، مجبوری ہے، جعفر مندوخیل
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے جعفر مندوخیل نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کروانا انکی سمجھ سے باہر ہے، پچھلے پانچ سال میں انتخابات نہیں کرائے گئے۔ صرف پانچ مہینے باقی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر بلوچستان شیخ جعفر مندوخیل نے الیکشن کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کروانا ان کے لیے سمجھ سے باہر ہے، کیونکہ پچھلے پانچ سال میں انتخابات نہیں کرائے گئے، اور اب صرف آخری پانچ مہینے میں انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی مجبوری ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق انتخابات کرائے جائیں گے۔ انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کوئٹہ کے لیے متفقہ میئر کا انتخاب کریں گے، تاکہ شہر کے لیے مثبت قیادت فراہم ہو۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ حکومت کے لیے بلوچستان میں امن و امان برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ ماضی کے حالات اب موجود نہیں، اور صورتحال کو قابو میں لانے میں وقت لگے گا، لیکن جلد صوبے میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بلوچستان حکومت کے اڑھائی اڑھائی سال کے معاہدے پر کافی باتیں ہو چکی ہیں اور اس پر دوبارہ تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔