Islam Times:
2026-07-24@05:17:05 GMT

خان یونس کی ویرانیوں میں 54 فلسطینی جوڑوں کی اجتماعی شادی

اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT

خان یونس کی ویرانیوں میں 54 فلسطینی جوڑوں کی اجتماعی شادی

اسلام ٹائمز: تقریب کے منتظم شریف النیرب نے اس تقریب کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا: امدادی مرکز „سوارکارِ چالاک 3“ کے آپریشن روم نے یہ فیصلہ کیا کہ ناممکن حالات میں بھی شادی کو ممکن بنایا جائے اور غزہ میں ایک بار پھر زندگی لوٹائی جائے۔ غزہ کی ویرانیوں پر اس جشن کا انعقاد اس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ فلسطینی انسان آج بھی زندہ دل اور مزاحمت کرنے والا ہے۔ ان شاء اللہ، اس تقریب کا انعقاد غزہ کے لیے تعمیرِ نو، آبادکاری اور ایک نئے مستقبل کا پیغام بنے گا۔ خصوصی رپورٹ:

غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع شہر خان یونس میں، قصبہ حمد کے ہزاروں باشندوں کی موجودگی میں 54 فلسطینی جوڑوں نے ’’رختِ شادی‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک جشن کے تحت اپنی ازدواجی تقریبات منعقد کیں۔ غزہ کی پٹی سے خبرگزاری تسنیم کی نمائندہ آیہ جودہ کے مطابق، خان یونس میں واقع قصبہ حمد، دو سالہ جنگ اور مسلسل محاصرے کے بعد حالیہ دنوں میں ایک مختلف منظر پیش کر رہا ہے۔ اس بستی کی ہر سمت پھیلی تباہی کے درمیان خوشی اور مسرت کی آوازیں گونج اٹھیں۔ قصبہ حمد، جو ہر بمباری کے مقابل صبر و استقامت کی علامت بنا رہا، آج ایک ایسے واقعے کا میزبان ہے جو غزہ کی ایک کم دیکھی جانے والی تصویر کو نمایاں کرتا ہے۔ یہاں در و دیوار پر سجاوٹ آویزاں ہے، اگرچہ یہ سجاوٹ تباہی کے نشانات اور کٹھن راتوں کی یادوں کو مکمل طور پر چھپا نہیں سکتی۔

اس علاقے کے رہائشی آہستہ آہستہ تقریب کے مقام کی طرف آتے ہیں تاکہ وہ ایک ایسے لمحے کے گواہ بن سکیں جو دھوئیں اور آگ کے دنوں کی تلخ یادوں کو ذہنوں سے مٹا دے۔ ’’رختِ شادی‘‘ کے نام سے منعقد ہونے والا یہ جشن ایک محدود علاقے میں، سخت حالات کے مقابل منعقد کیا گیا ہے تاکہ غزہ کے باشندوں کو یہ یاد دلایا جا سکے کہ روشنی اور امید کبھی نہیں مرتی۔ تقریب کے منتظم شریف النیرب نے اس تقریب کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا: امدادی مرکز „سوارکارِ چالاک 3“ کے آپریشن روم نے یہ فیصلہ کیا کہ ناممکن حالات میں بھی شادی کو ممکن بنایا جائے اور غزہ میں ایک بار پھر زندگی لوٹائی جائے۔ غزہ کی ویرانیوں پر اس جشن کا انعقاد اس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ فلسطینی انسان آج بھی زندہ دل اور مزاحمت کرنے والا ہے۔ ان شاء اللہ، اس تقریب کا انعقاد غزہ کے لیے تعمیرِ نو، آبادکاری اور ایک نئے مستقبل کا پیغام بنے گا۔


غزہ کی پٹی میں رہنے والے 2651 فلسطینی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس امید کے ساتھ ’’رختِ شادی‘‘ مہم میں شامل ہوئے کہ شاید یہ خواب انہیں ان تمام دکھوں اور مصیبتوں سے نجات دلا سکے۔ ناموں کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کے بعد 577 افراد کو منتخب کیا گیا، اور بالآخر قرعہ اندازی کے مرحلے میں 54 دلہاؤں کے نام نکلے۔ وہ لوگ جو آج اس میدان میں اپنی شادی کی تقریب منعقد کر رہے ہیں، درحقیقت ایک ناممکن خواب کو حقیقت میں بدل چکے ہیں۔ ام محمود وشاح، جو اس مہم میں شریک ایک دلہے کی والدہ ہیں، کہتی ہیں: اس تقریب کا انعقاد واقعی خوشی کا باعث ہے۔ ہم تباہی اور بربادی سے تھک چکے ہیں۔ اب بھی ایسے لوگ ہیں جن کی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، لیکن دو سال کی مسلسل اذیت اور سختیوں کے بعد ہمیں خوش ہونے کا حق ہے۔ بھوک اور ویرانی کی مصیبتوں نے ہماری پوری زندگی کو گھیر رکھا تھا… ہمارے پاس اور کیا راستہ تھا؟

وہ غزہ کے بچوں اور بڑوں میں اس تقریب سے پیدا ہونے والی خوشی کی فضا کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہتی ہیں: ہمیں ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ ہمیں کوئی ایسی چیز مل گئی ہے جو ہمیں خوش کر سکتی ہے۔ خاندانوں کے اکٹھا ہونے سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شہر خان یونس اس جنگی سایے سے باہر نکل آیا ہو جو طویل عرصے سے اس پر چھایا ہوا تھا۔ بچے ایک بار پھر کھیل اور خوشی میں مشغول ہو گئے ہیں، اور بڑے لوگ بمباری کی آوازوں سے آزاد چند لمحے گزار رہے ہیں۔ غزہ کی پٹی میں ’’رختِ شادی‘‘ کا انعقاد محض ایک جشن نہیں، بلکہ اس حقیقت کا عکاس ہے کہ غزہ خود کو دوبارہ تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور یہ پیغام دیتا ہے کہ جو قوم زندگی سے محبت کرتی ہے وہ کبھی شکست قبول نہیں کرتی، چاہے اسے اس باریکے میں موجود تباہی اور بربادی کی اس شدت کا سامنا ہی کیوں نہ ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: غزہ کی پٹی کا انعقاد خان یونس غزہ کے

پڑھیں:

سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد:

عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف