یوکرین امن مذاکرات سے پہلے نیٹو رکنیت کی خواہش چھوڑنے کرنے کے لئے تیار
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیف: یوکرینی صدر نےکہاہے کہ امن مذاکرات سے قبل نیٹو کی رکنیت کی دیرینہ خواہش چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔
زیلنسکی نے اتوار کے روز اپنی اس تجویز کو کیف کی طرف سے دی گئی رعایت کے طور پر بیان کیا جو برسوں تک نیٹو کی رکنیت کے لیے دباؤ ڈالنے اور اب مستقبل میں روسی حملوں کے خلاف سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
صدر ولادیمیر زیلینسکی نے برلن میں امریکی سفیروں اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ ملاقاتوں سے قبل کہا ہے کہ وہ مغربی سلامتی کی ضمانتوں کے بدلے نیٹو میں شمولیت کے اپنے دیرینہ عزائم کو ترک کرنے کے لیے تیار ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ امریکا، یورپی شراکت دار اور دیگر اتحادی قانونی طور پر پابند حفاظتی ضمانتیں فراہم کر سکتے ہیں۔
زیلنسکی کاکہنا تھاکہ”شروع ہی سے، یوکرین کی خواہش نیٹو میں شامل ہونے کی تھی یہ حقیقی سیکورٹی کی ضمانتیں ہیں لیکن امریکہ اور یورپ کے کچھ شراکت داروں نے اس سمت کی حمایت نہیں کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔