موت کی سزا پانے والے شخص کی آخری خواہش: ہائی کیلوریز سے بھرپور کھانے کی فرمائش
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جارجیا: امریکی ریاست جارجیا میں موت کی سزا پانے والے 52 سالہ سٹیسی ہمفریز نے اپنی آخری خواہش میں حیران کن انتخاب کیا، دوہرے قتل کے جرم میں مہلک انجکشن کے ذریعے پھانسی پانے والے ہمفریز نے اپنی آخری خواہش میں ہائی کیلوریز سے بھرپور کھانے کا مطالبہ کیا، جس نے میڈیا اور عوام کی توجہ حاصل کر لی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سٹیسی ہمفریز، جو تقریباً 6 فٹ 3 انچ لمبا اور 305 پاؤنڈ وزن کا حامل ہے، مجرم نے اپنی آخری کھانے کی فرمائش میں باربی کیو بیف برسکٹ، پگ میٹ، بیکن ڈبل چیزبرگر، فرنچ فرائز، کولسلا، کارن بریڈ، بفیلو ونگز، ایک میٹ پریمی پین پیزا، ونیلا آئس کریم اور دو لیمن لائم سوڈا شامل کیے۔
عالمی میڈیا نے اس واقعے کو غیر معمولی قرار دیا کیونکہ عام طور پر موت کی سزا پانے والے اپنی آخری خواہش میں پیاروں سے ملاقات یا مذہبی رسومات کو ترجیح دیتے ہیں لیکن سٹیسی ہمفریز نے آخری لمحوں میں ذائقہ اور کیلوریز کو ترجیح دی۔
یہ واقعہ نہ صرف امریکی عوام بلکہ عالمی میڈیا میں بھی سرخیوں کی زینت بنا اور موت کی سزا پانے والوں کی آخری خواہشات پر نئے انداز سے روشنی ڈال دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: موت کی سزا پانے آخری خواہش اپنی آخری پانے والے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔