گلگت بلتستان کی نگران کابینہ کی تشکیل میں غیر معمولی تاخیر کی اصل وجہ کیا ہے؟ اندرونی کہانی
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
ذرائع نے مزید بتایا کہ ایک موقع پر نگران وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ دینے کی دھمکی بھی دیدی۔ کئی من پسند شخصیات کو نگران کابینہ میں "ہر صورت" شامل کرنے کے دباؤ پر نگران وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ دینے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ میں چند ماہ کیلئے آیا ہوں، اور ان چند مہینوں میں خود کو متنازعہ بنا کر گھر جانا ہرگز پسند نہیں کروں گا۔ اسلام ٹائمز۔ 18 روز گزرنے کے باؤجود بھی گلگت بلتستان کی نگران کابینہ نہ بن سکی۔ گزشتہ ماہ کی 26 تاریخ کو نگران وزیر اعلیٰ جسٹس (ر) یار محمد نے حلف اٹھا لیا تھا، تب سے اب تک اٹھارہ روز گزر چکے لیکن نگران کابینہ کی تشکیل نہ ہو سکی۔ ذرائع نے اسلام ٹائمز کو بتایا کہ مختلف اداروں کے مابین اختلافات اور نگران وزیر اعلیٰ کی جانب سے کسی بھی قسم کے دباؤ کو تسلیم نہ کرنے کا واضح اظہار نگران کابینہ کی تشکیل میں غیر معمولی تاخیر کی وجہ بن گیا ہے۔ مختلف حلقوں سے درجنوں نام وزیر اعلیٰ کے سامنے پیش کیے گئے تھے، بعض نام ایسے بھ تھے جن کی تائید مختلف اداروں کی جانب سے کی گئی تھی۔ تاہم وزیر اعلیٰ نے کئی ایسے ناموں کو یکسر مسترد کر دیا جن کے حوالے سے بڑی سفارشیں سامنے آئی تھیں۔
ذرائع کے مطابق گلگت میں کم از کم دو ایسے افراد کے نام بھی دئیے گئے تھے جن کا سیاسی و مذہبی جماعت کے ساتھ تعلق ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ نے ان دونوں ناموں پر اعتراض کیا تو انہیں بتایا گیا گو کہ ان دونوں افراد کا تعلق سیاسی و مذہبی جماعت سے ہے تاہم گلگت کے مخصوص حالات میں خصوصاً امن کے قیام اور جرگوں کے ذریعے معاملات کو سلجھانے کیلئے یہ دونوں شخصیات اہم کردار ادا کرتی آئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ اگر اس طرح کے لوگ سسٹم میں شامل نہ ہوں تو کسی بھی ہنگامی حالات میں معاملات کو کون سنبھالے گا؟ دیامر سے ایک اور نام بھی نگران وزیر اعلیٰ کیلئے دیا گیا تھا جو کہ حاجی گلبر خان کی سابق حکومت میں اہم عہدے پر فائض رہے ہیں تاہم وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری نے اس شخص کو کابینہ میں لینے سے واضح انکار کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ایک موقع پر نگران وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ دینے کی دھمکی بھی دیدی۔ کئی من پسند شخصیات کو نگران کابینہ میں "ہر صورت" شامل کرنے کے دباؤ پر نگران وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ دینے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ میں چند ماہ کیلئے آیا ہوں، اور ان چند مہینوں میں خود کو متنازعہ بنا کر گھر جانا ہرگز پسند نہیں کروں گا۔ ذرائع کے مطابق ابتدا میں 73 ناموں کی فہرست سامنے آئی تھی، بعد میں سکروٹنی کر کے 35 تک لایا گیا۔ تاہم وزیر اعلیٰ کی جانب سے سٹینڈ لینے کے بعد نگران کابینہ کی تشکیل کا معاملہ مزید الجھ گیا۔ دریں اثناء گزشتہ دنوں سامنے آنے والی بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پیر یا منگل کے روز تک نگران کابینہ کا اعلان متوقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ کے معاملے کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نگران کابینہ کی تشکیل پر نگران وزیر اعلی دینے کی دھمکی نے استعفی
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔
بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس
کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔
سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ
سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:
گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے
معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔
اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔
دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔