وفات پانے والے شخص کا شناختی کارڈ گھر بیٹھے منسوخ کروانے کا طریقہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک : نادرا نے وفات پانے والے شخص کا قومی شناختی کارڈ پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے منسوخ کروانے کی سہولت فراہم کردی ۔
نادرا کے مطابق کسی فوت شدہ شخص کا شناختی کارڈ اس کے قریبی خونی رشتہ دار جس میں بیٹا، بیٹی، شریکِ حیات، والدین، بہن یا بھائی شامل ہوں، بلا معاوضہ منسوخ کروا سکتے ہیں۔ یہ عمل کسی بھی نادرا رجسٹریشن سینٹر میں جا کر بھی مکمل کیا جا سکتا ہے۔
نادرا وفات پانے والے شخص کا شناختی کارڈ باضابطہ منسوخ کرتا ہے تو ساتھ میں کینسلیشن سرٹیفکیٹ بھی جاری کرتا ہے۔
سستی اورمعیاری اشیاء کا حصول پنجاب کے عوام کا حق ہے:مریم نواز
قانون کے مطابق خاندان کے فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ وفات پانے والے شخص کا 60 دن کے اندر شناختی کارڈ منسوخ کروائیں۔
طریقہ کار:
اس عمل کیلیے یونین کونسل، میونسپل کمیٹی، کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ تصدیق شدہ کمپیوٹرائزڈ ڈیتھ سرٹیفکیٹ یا بیرونِ ملک جاری شدہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ (اگر قابلِ اطلاق ہو) ضروری ہے۔
شہری نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے کینسلیشن سرٹیفکیٹ کیلیے درخواست دے سکتے ہیں۔
بارش اور برف باری کا امکان،سڑکیں بند ہونے کا خدشہ
مرحوم/مرحومہ کے شناختی کارڈ کی منسوخی کی درخواست اس کی بیٹیوں یا بہن بھائیوں کے پاک آئی ڈی اکاؤنٹ کے ذریعے جمع کروائی جا سکتی ہے۔
والدین، بہن بھائی، شریکِ حیات یا اولاد سمیت کوئی بھی خونی رشتہ دار اپنی پاک آئی ڈی اکاؤنٹ کے ذریعے فوتگی کی بنیاد پر شناختی کارڈ منسوخ کروانے کی درخواست دے سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: وفات پانے والے شخص کا شناختی کارڈ پاک آئی ڈی کے ذریعے
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔