زندہ شخص کی ’تدفین‘ کا سرٹیفکیٹ سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
بیرونِ ملک مقیم ایک شخص کو نادرا ریکارڈ میں مردہ ظاہر کیے جانے کے معاملے پر سندھ ہائیکورٹ میں ان کے شناختی کارڈ کی بحالی کے لیے درخواست دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار عمران ملک کے وکیل کنول غوری کے مطابق عمران ملک کو ان کے اہلِ خانہ نے جعلی دستاویزات کے ذریعے مردہ قرار دلوایا۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران ملک برطانیہ میں مقیم تھے، تاہم اہلِ خانہ نے جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوا کر نادرا کے ریکارڈ میں انہیں مردہ ڈکلیئر کروا دیا۔
درخواست گزار 4 برس بعد اکتوبر میں وطن واپس آئے تو بینک اکاؤنٹ کھلوانے کے دوران انہیں بتایا گیا کہ ان کا شناختی کارڈ بلاک ہے۔
درخواست گزار کے مطابق نادرا سے رجوع کرنے پر معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں ان کی وفات اپریل 2024 میں ظاہر کی گئی ہے۔
یونین کونسل کے ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار کی والدہ نورین ملک نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے اجرا کے لیے درخواست دی تھی۔
وکیل کے مطابق درخواست گزار کے بھائی کامران ملک نے میوہ شاہ قبرستان میں تدفین کا جعلی سرٹیفکیٹ بھی حاصل کیا۔
وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ خاندان کی اس جعل سازی اور فراڈ کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس عبدالمبین لاکھو نے دریافت کیا کہ اگر درخواست گزار کو مردہ قرار دے دیا گیا تھا تو وہ وطن واپس کیسے آ گئے۔
جس پر وکیل درخواست گزار نے وضاحت کی کہ درخواست گزار کا پاسپورٹ منسوخ نہیں ہوا تھا، اسی لیے وہ پاکستان واپس آنے میں کامیاب ہو گئے، تاہم اب وہ بیرونِ ملک سفر نہیں کر سکتے۔
وکیل کے مطابق درخواست گزار کی والدہ کو دباؤ میں لا کر انہیں وراثت سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لہٰذا عدالت نادرا کو شناختی کارڈ بحال کرنے کا حکم دے۔
سماعت کے دوران جسٹس یوسف علی سعید نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس معاملے کو نادرا کے دائرہ اختیار تک محدود رکھتے ہوئے دیکھے گی۔
عدالت نے نادرا سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 4 ہفتوں میں جواب طلب کر لیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بینک اکاؤنٹ پاسپورٹ جسٹس عبدالمبین لاکھو جعل سازی ڈیتھ سرٹیفکیٹ سندھ ہائیکورٹ شناختی کارڈ عمران ملک میوہ شاہ قبرستان نادرا وراثت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بینک اکاؤنٹ پاسپورٹ جسٹس عبدالمبین لاکھو ڈیتھ سرٹیفکیٹ سندھ ہائیکورٹ شناختی کارڈ عمران ملک میوہ شاہ قبرستان درخواست گزار شناختی کارڈ عمران ملک کے مطابق
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔