—فائل فوٹو

پشاور ہائی کورٹ نے درخواست گزار افغان طالبہ کو داخلے کے عمل سے نہ نکالنے کا حکم دے دیا۔

افغان طالبہ کی داخلہ سے متعلق درخواست پر پشاور ہائی کورٹ نے گزشتہ سماعت کا حکمنامہ جاری کر دیا۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار طالبہ کو افغان پاسپورٹ نہ ہونے کی بنیاد پر داخلے کے عمل سے نہ نکالا جائے۔ افغان طلبہ کو مخصوص سیٹوں پر داخلہ کے لیے افغان پاسپورٹ اور ویزا رکھنا ضروری ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ درخواست گزار طالبہ کے وکیل کے مطابق پاک افغان بارڈر بند ہے، بارڈر کی بندش سے پاسپورٹ کے حصول میں کچھ وقت لگے گا۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے مطابق انہیں پاسپورٹ نہ ہونے کی بنیاد پر داخلہ سے محروم رکھا جا رہا ہے، فریقین اس حوالے سے تفصیلی جواب جمع کریں، اس دوران افغان طالبہ کو داخلے کے عمل سے نہ نکالا جائے۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ درخواست پر مزید سماعت 30 دسمبر تک ملتوی کی جاتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کہا گیا ہے کہ درخواست داخلے کے عمل سے نہ درخواست گزار افغان طالبہ طالبہ کو

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری