سندھ ہائیکورٹ نے صوبے میں نئی اجرک ڈیزائن گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی تنصیب کیخلاف درخواست مسترد کردی.

ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں نئی اجرک ڈیزائن گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی تنصیب کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

شہری فیصل حسین نے درخواست میں مؤقف اپنایا تھا کہ حکومت نے پرانی نمبر پلیٹس کے استعمال کو ختم کرکے اجرک ڈیزائن نمبر پلیٹس لازمی قرار دے دی ہیں، جن کی قیمت 500 سے 3000 روپے تک مقرر کی گئی ہے، جو عوام کیلئے غیر ضروری مالی بوجھ ہے۔

درخواست گزار کے مطابق حکومت نے جو نوٹیفکیشن جاری کیا ہے اس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ نئی اجرک پلیٹس نہ لگانے کی صورت میں جرمانہ عائد کیا جائے گا اور گاڑی کو بند بھی کیا جا سکتا ہے حالانکہ شہری پہلے ہی نمبر پلیٹس کی مد میں فیس ادا کر چکے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ گاڑی مالکان نے ایکسائز ڈیوٹی کی ادائیگی کے بعد اپنی نمبر پلیٹس حاصل کی تھیں، اس لیے نئی پلیٹس مفت فراہم کی جائیں۔ ان کے مطابق اضافی فیس لینا غیرقانونی ہے اور عدالت کے پاس اختیار ہے کہ وہ ریاستی افسران کے اختیارات کو قانون کے مطابق استعمال کرنے کو یقینی بنائے۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ شہریوں پر مزید فیس عائد نہ کی جائے اور پرانی نمبر پلیٹس رکھنے والوں کے خلاف کسی قسم کی زبردستی نہ کی جائے۔

عدالت نے تحریری حکم نامے میں قرار دیا کہ درخواست گزار کا اعتراض محض نئی نمبر پلیٹس کی مقررہ فیس تک محدود ہے جو گاڑی کی نوعیت کے مطابق 500 سے 3000 روپے تک ہے۔

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ 17 دسمبر 2024 کو جاری عوامی نوٹس میں نئی نمبر پلیٹس کے لئے اضافی سیکیورٹی فیچرز واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں، عدالت نے وکیل کے تمام اعتراضات مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ درخواست میں اٹھائے گئے نکات کسی قانونی بنیاد پر پورے نہیں اترتے، جس کے بعد درخواست خارج کردی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نمبر پلیٹس کی کے مطابق

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن