پاکستان اسلامی ریاست ہے اس کے خلاف مسلح کارروائی غیر شرعی ہے، مفتی تقی عثمانی
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
معروف دینی اسکالر مفتی محمد تقی عثمانی نے انتہاپسندانہ بیانیے کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف مسلح کارروائی کو غیر شرعی قرار دیا ہے۔ ان کے بیانات کو شدت پسندی کے بیانیے کے مؤثر رد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آئینی ترمیم: مولانا فضل الرحمان نے ملک و ملت کی عظیم خدمت کی، مفتی تقی عثمانی
مفتی تقی عثمانی کے مطابق پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، اس لیے اس کے خلاف ہتھیار اٹھانا بغاوت کے زمرے میں آتا ہے، جو شرعاً ناجائز، غیر قانونی اور حرام ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی صورت میں ریاستِ پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد کی کوئی شرعی گنجائش موجود نہیں۔
انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ روس یا امریکا کے خلاف جہاد سے متعلق فتاویٰ کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا درست نہیں، اور اس طرح کی تاویل یا تحریف ایک سنگین فتنہ ہے، جو دین کے نام پر گمراہی کو فروغ دیتی ہے۔
مفتی تقی عثمانی کے یہ بیانات انتہاپسند سوچ کے مقابلے میں ایک دوٹوک اور واضح دینی رہنمائی کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلامی ریاست پاکستان مفتی تقی عثمانی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلامی ریاست پاکستان مفتی تقی عثمانی مفتی تقی عثمانی کے خلاف
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔