سعودی عرب میں موسیقی کے رنگ، چینی کورس نے عربی زبان میں پہلی بار گیت پیش کیے
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
بیجنگ کے نیشنل سینٹر فار دی پرفارمنگ آرٹس کے تعاون سے عالمی شہرت یافتہ کورس کی جانب سے پیش کردہ پروگرام ’ورلڈ فیمس سانگز‘ کنگ عبدالعزیز سینٹر فار ورلڈ کلچر میں ایک خصوصی شو کے طور پر پیش کیا گیا۔
تقریباً 2 گھنٹے طویل اس شاندار پرفارمنس کے بعد این سی پی اے کورس کی مینجنگ ڈائریکٹر اور ریذیڈنٹ کنڈکٹر جیاو میاؤ کا کہنا تھا کہ چین میں ہم اکثر مغربی موسیقی پیش کرتے ہیں، تاہم اس موقع نے ہمیں عرب ثقافت کو قریب سے دیکھنے کا موقع دیا، جو ہمیں بے حد دلکش لگی۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں مسٹر بیسٹ کی پہلی ویڈیو نے ریکارڈ توڑ دیا، ریاض سیزن میں عالمی توجہ کا مرکز
انہوں نے بتایا کہ یہ پہلا موقع تھا جب کورس نے عربی زبان میں گایا، جو ان کے لیے خاصا مشکل تجربہ تھا کیونکہ یہ زبان انہوں نے پہلے کبھی نہیں سیکھی تھی اور اس کی موسیقی میں استعمال ہونے والے سُر بھی مختلف ہیں۔
https://Twitter.
کورس نے اس کنسرٹ کی تیاری جولائی میں شروع کی تھی، پروگرام میں دنیا بھر کے منتخب موسیقی کے شاہکار شامل تھے، جن کے ذریعے ناظرین مختلف ثقافتوں، ادوار اور اسالیب کا سفر کیے بغیر اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے۔
اس میں کلاسیکی دھنیں، چینی لوک گیت اور مغربی کورل موسیقی شامل تھی، جبکہ پیانو پر لیو شیاوشنگ اور سن نیان یانگ نے مختلف مواقع پر سنگت کی۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں دسمبر 2025: ملک بھر میں ثقافت، معیشت، سائنس اور کھیلوں کی سرگرمیاں
چینی خواتین فنکار سفید، بہتے ہوئے ملبوسات میں ملبوس تھیں جبکہ مرد فنکار سیاہ سوٹس اور سفید قمیصوں میں جلوہ گر ہوئے۔
کنڈکٹر جیاو میاؤ نے نہایت روانی اور نفاست سے ہاتھوں کی جنبش کے ذریعے دھنوں کو رہنمائی فراہم کی۔
کورس نے چین، جنوبی کوریا، برازیل، فرانس، جرمنی، اٹلی، روس، میکسیکو، جنوبی افریقہ، ارجنٹینا اور امریکا سمیت متعدد ممالک کی زبانوں میں گیت پیش کیے۔
نرم اور لوری جیسی دھنوں کے بعد جوشیلی پیشکشوں نے ہال میں نئی جان ڈال دی، کہیں صرف مردوں کی آوازیں گونجیں تو کہیں خواتین کی۔
مزید پڑھیں:سعودی عرب میں عالمی یگانگت 2 کے تحت یمن کے ثقافتی دن کامیابی سے مکمل
جبکہ مختلف سولو پرفارمنس اور ہلکی پھلکی رقص کی جھلکیاں بھی شامل رہیں۔
اسٹیج لائٹس موسیقی کے مطابق رنگ بدلتی رہیں، جس سے سامعین کو ایک مکمل بصری اور صوتی تجربہ ملا۔
2007 میں قائم ہونے والا این سی پی اے بیجنگ چین میں موسیقی، تھیٹر اور رقص کا مرکزی مرکز ہے۔
2009 میں قائم ہونے والا این سی پی اے کورس اس کا مستقل حصہ ہے اور یہ گروپ جی 20 سمٹ ہانگژو اور بیجنگ ونٹر اولمپکس سمیت بڑے عالمی ایونٹس میں پرفارم کر چکا ہے۔
مزید پڑھیں: ریاض میں بلیک ہیٹ 2025: سعودی عرب ایک بار پھر عالمی سائبر سیکیورٹی کا مرکز بننے کو تیار
یہ پرفارمنس سعودی عرب میں ان کی پہلی پیشکش تھی، یہ کنسرٹ خبر سیزن کے تحت اثرَا ونٹر تقریبات کا حصہ تھا، جس کا آغاز اکتوبر میں ہوا۔
یہ سعودی-چین ثقافتی سال 2025 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد فنون کے ذریعے ثقافتی مکالمے اور تخلیقی تبادلے کو فروغ دینا ہے۔
کنگ عبدالعزیز سینٹر فار ورلڈ کلچرمیں پرفارمنگ آرٹس کے سربراہ پال بیرن نے کہا کہ اس ریپرٹوار نے مختلف براعظموں اور نسلوں کو یکجا کیا اور موسیقی کی اس طاقت کو اجاگر کیا جو لوگوں کو متحد کرتی ہے۔
جیاو میاؤ نے کہا کہ کنگ عبدالعزیز سینٹر فار ورلڈ کلچرمیں پہلی بار پرفارم کرنا ان کے لیے اعزاز ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں یورپی سینما کا میلہ، ثقافتی تبادلے کا نیا باب
تقریب میں سعودی کورس کوریلا کی خصوصی شرکت بھی شامل تھی، جو صرف عربی زبان میں گیت پیش کرتا ہے۔
جدہ میں 2022 میں قائم ہونے والا یہ گروپ پہلی بار این سی پی اے کورس کے ساتھ ایک ہی اسٹیج پر نظر آیا۔
دونوں گروپس کی مشترکہ پیشکش چین اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 35ویں سالگرہ کے موقع پر ہوئی۔
دونوں کورسز نے ایک سعودی اور ایک چینی گیت اپنی اپنی مادری زبانوں میں پیش کیا۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کا عالمی اعزاز، 2031 سے ’انٹوسائی‘ کی صدارت سنبھالے گا
مشہور عالمی دھنوں میں میکسیکو کا ’لا بامبا‘، پال سائمن کا ’برج اوور ٹربلڈ واٹر‘، سعودی موسیقی کے لیجنڈ محمد عبده کا ’علا البال‘ اور اختتامی طور پر ہالی وڈ میوزیکل ’لا لا لینڈ‘ کی دھن شامل تھی۔
جیاو میاؤ کے مطابق سعودی ناظرین، خصوصاً کنگ عبدالعزیز سینٹر فار ورلڈ کلچرمیں موجود سامعین کا جوش و خروش ان کے لیے ناقابلِ فراموش یاد بن گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برج اوور ٹربلڈ واٹر پال سائمن جیاو میاؤ سعودی ناظرین سفارتی تعلقات سینٹر فار ورلڈ کلچر علا البال کنگ عبدالعزیز لا بامبا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پال سائمن جیاو میاؤ سفارتی تعلقات سینٹر فار ورلڈ کلچر علا البال کنگ عبدالعزیز لا بامبا کنگ عبدالعزیز سینٹر فار ورلڈ سی پی اے مزید پڑھیں موسیقی کے جیاو میاؤ کورس نے کے لیے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔