نئے صوبوں کے قیام سے متعلق علیم خان کی تجویز کی ایم کیو ایم نے حمایت کردی
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
ملک میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ ایک بار پھر شدت اختیار کرتا جارہا ہے، جس پر ایم کیو ایم پاکستان نے بھی استحکامِ پاکستان پارٹی کی حمایت کرتے ہوئے پارٹی سربراہ عبدالعلیم خان کی تجویز کی تائید کا اعلان کر دیا ہے۔
نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی امین الحق نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام اب محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کم از کم 12 صوبے ہونے چاہییں تاکہ انتظامی امور کو مؤثر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک نے بہتر حکمرانی اور عوامی سہولت کے لیے اپنی انتظامی اکائیوں میں اضافہ کیا ہے۔
امین الحق نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام پر ہمیشہ اختلافات اور تنازعات رہے ہیں، تاہم موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ انتظامی تقسیم کو ازسرِنو ترتیب دیا جائے۔
مزید پڑھیں:
ان کا کہنا تھا کہ ان کی دھرتی ماں ان کا صوبہ نہیں بلکہ پاکستان ہے، ان کے مطابق عوام کو بنیادی مسائل کے حل کے لیے بڑے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ سمیت ملک کے دیگر علاقوں کے شہریوں کو اپنے مسائل کے لیے کراچی جیسے شہروں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ اسی سوچ کے تحت پنجاب اور سندھ ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں نئے صوبوں کا قیام ضروری ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان نے اس موقع پر واضح مطالبہ کیا کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم، بہتر نظم و نسق اور عوامی سہولت کے لیے پاکستان میں مزید صوبے قائم کیے جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایم کیوایم عبدالعلیم خان کراچی لاڑکانہ محمد امین الحق منصفانہ تقسیم نظم و نسق نعرہ وسائل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایم کیوایم عبدالعلیم خان کراچی لاڑکانہ محمد امین الحق منصفانہ تقسیم ایم کیو ایم کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
دنیائے کھیل کا سب سے بڑا اور مقبول ترین میلہ ’فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026‘ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ 12 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے۔
فٹبال کی تاریخ کا یہ اب تک کا سب سے انوکھا اور تاریخی ٹورنامنٹ ہوگا جس کی مشترکہ میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کر رہے ہیں۔
اس بار ورلڈکپ محض ایک کھیل نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ تاریخ میں پہلی بار 32 کے بجائے 48 ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:104 میچز، 48 ٹیمیں اور اربوں شائقین، فیفا ورلڈ کپ 2026 میں کیا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟
جہاں شائقین کا جوش و خروش عروج پر ہے، وہی کھیلوں کے معروف ڈیٹا ماڈل ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے 10 ہزار سیمولیشنز تیار کر کے فاتح ٹیم کے حوالے سے ایک سنسنی خیز پیشگوئی کر دی ہے۔
ٹورنامنٹ کا نیا فارمیٹ اور راؤنڈ آف 32 کا تاریخی آغازماضی کے برعکس اس بار ٹورنامنٹ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ٹورنامنٹ میں شریک 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ 4 ٹیموں پر مشتمل ہے۔
اس نئے فارمیٹ کے تحت ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر ریکارڈ 104 میچز کھیلے جائیں گے۔ ہر گروپ سے پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں کوالیفائی کریں گی، جس سے ایونٹ کی تاریخ میں پہلی بار ’راؤنڈ آف 32′ کا سنسنی خیز آغاز ہوگا۔
زیادہ ٹیموں کی شمولیت کے باعث جہاں مقابلوں کا جوش بڑھے گا، وہیں کسی بھی ٹیم کے لیے فائنل تک کا سفر طویل اور تھکا دینے والا ہوگا۔
اوپٹا سپر کمپیوٹر کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟شائقین فٹبال کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ کوئی روایتی فزیکل کمپیوٹر نہیں ہے۔ یہ دراصل آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ایک انتہائی ایڈوانس ماڈل ہے جو فٹبالرز اور ٹیموں کے موجودہ فارم، ماضی کے ریکارڈز اور ہزاروں دیگر ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کرتا ہے۔
یہ ماڈل ڈیٹا کی بنیاد پر پورے ٹورنامنٹ کو 10 ہزار سے زیادہ بار ڈیجیٹل طور پر سیمولیٹ کرتا ہے اور پھر پیشگوئی کرتا ہے کہ کس ٹیم کے ٹورنامنٹ جیتنے، فائنل میں پہنچنے یا کسی خاص میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے کتنے فیصد امکانات موجود ہیں۔
’اسپین‘ فیورٹ، مگر ایک بڑا دھچکا بھیاوپٹا سپر کمپیوٹر کی 10 ہزار ڈیجیٹل سیمولیشنز کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہیں، انہوں نے فٹبال کی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ماڈل نے تمام تر غیریقینی صورتحال کے باوجود ’اسپین‘ کو ٹرافی جیتنے کے لیے واضح طور پر فیورٹ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا
سپر کمپیوٹر کے مطابق اسپین کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 16.1 فیصد ہے۔ تاہم دلچسپ اور پریشان کن بات یہ ہے کہ جہاں اسپین کو فاتح قرار دیا گیا ہے، وہیں ڈیٹا یہ بھی بتاتا ہے کہ اسپین وہ واحد بڑی ٹیم ہے جس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان 52.1 فیصد ہے۔ یعنی اگر اسپین ابتدائی ناک آؤٹ مرحلے عبور کرنے میں کامیاب رہا، تو اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا امکان 39 فیصد جبکہ فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہوگا۔
دیگر بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکاناتسپر کمپیوٹر کے مطابق ٹرافی کی دوڑ میں اسپین تنہا نہیں ہے بلکہ دیگر روایتی حریف بھی اس کے تعاقب میں ہیں۔ سپر کمپیوٹر نے 4 بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکانات کو 10 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ اس فہرست میں فرانس دوسرے نمبر پر ہے جس کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 13 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح انگلینڈ 11.2 فیصد امکان کے ساتھ تیسرے اور لیونل میسی کی ارجنٹینا (دفاعی چیمپیئن) 10.4 فیصد امکان کے ساتھ چوتھے نمبر پر ممکنہ فاتح قرار دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپین امریکا اوپٹا سپر کمپیوٹر برطانیہ ٹیم فیورٹ حیران کن پیش گوئی فیفا ورلڈ کپ لندن ورلڈ کپ۔