چینی سائنسدانوں کی بڑی پیش رفت، چکن جیسا سستا متبادل گوشت تیار
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
چینی سائنسدانوں نے غذائی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایسا متبادل گوشت تیار کر لیا ہے جو غذائیت، ذائقے اور ساخت میں چکن سے مشابہت رکھتا ہے۔ یہ نیا پروٹین روایتی چکن کے مقابلے میں سستا اور ماحول دوست متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق محققین نے فرمینٹیشن اور فائبر اسٹرکچرنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس متبادل گوشت کو تیار کیا ہے۔ یہ پروٹین پودوں سے حاصل شدہ غذائی اجزا اور فنگس پر مبنی مواد سے بنایا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی تجربات میں یہ متبادل گوشت چکن کی طرح پکایا جا سکتا ہے اور اس کی بناوٹ ایسی ہے کہ اسے چکن کی طرح ریشے ریشے بھی کیا جا سکتا ہے، جس سے ذائقے اور استعمال میں فرق محسوس نہیں ہوتا۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد بڑے پیمانے پر پولٹری فارمنگ پر انحصار کم کرنا اور عوام کو چکن کا ایک سستا، صحت بخش اور پائیدار متبادل فراہم کرنا ہے۔ چینی فوڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق یہ ایجاد طویل المدتی غذائی تحفظ سے متعلق چیلنجز پر قابو پانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب محققین کا کہنا ہے کہ یہ متبادل گوشت جلد ہی منتخب مارکیٹس میں متعارف کروایا جائے گا، جس کے بعد اسے ریسٹورنٹس، پیکڈ فوڈ مصنوعات اور گھریلو استعمال کے لیے بھی دستیاب کیا جا سکے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: متبادل گوشت
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔