مجلس عاملہ کے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا واسع نے کہا کہ جے یو آئی کا اس سرزمین سے نظریاتی، عوامی اور تاریخی تعلق کسی نوزائیدہ جماعت کے شور و شرابے سے متاثر نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر و سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ قلعہ سیف اللہ جیسے جے یو آئی کے مضبوط قلعے کو کمزور کرنے کے لیے مختلف دعوے اور پروپیگنڈے کئے جا رہے ہیں، مگر جے یو آئی کا اس سرزمین سے نظریاتی، عوامی اور تاریخی تعلق کسی نوزائیدہ جماعت کے شور و شرابے سے متاثر نہیں ہوسکتا۔ قلعہ سیف اللہ میں ضلعی مجلس عاملہ کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں میں چند سو ووٹ لینے والوں کا قومی اسمبلی کے وسیع حلقے میں جے یو آئی کو شکست دینے کا دعویٰ نہ صرف مضحکہ خیز ہے، بلکہ سیاسی بلوغت سے محرومی کی واضح مثال ہے۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ مولانا سمیع الدین آج الیکشن کے میدان میں پوری ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ انتخاب صرف ایک سیاسی مقابلہ نہیں، بلکہ نظریے اور اصول کی عملی تکمیل ہے۔

مولانا عبدالواسع نے مزید کہا کہ مولانا سید شمس الدین نے دین، ملت، تحفظ ختم نبوت اور جمعیت کے مشن کے لیے جو خدمات انجام دیں، وہ تاریخ کا روشن باب ہیں، اور ان کے افکار و نظریات کو آگے بڑھانے کے لیے ان کا وارث آج میدان میں موجود ہے۔ اسی دوران انہوں نے ایک اہم پیشرفت کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ بہت جلد جمہوری اور حقیقی سیاسی جماعتیں بھی جے یو آئی کے موقف کی تائید کرتے ہوئے، اٹھارہ دسمبر کے ری پول میں جے یو آئی کی باضابطہ حمایت کا اعلان کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہ دسمبر کو قلعہ سیف اللہ ثابت کرے گا کہ جے یو آئی کا یہ قلعہ ناقابل تسخیر ہے۔ یہاں جن کی نظریں بدنیتی سے اٹھتی ہیں، وہ ہمیشہ جھکی رہتی ہیں، اور عوام اپنے ووٹ سے ایک بار پھر نظریے اور شہداء کے وارثین کو سرخرو کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قلعہ سیف اللہ جے یو آئی کا نے کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی