قلعہ سیف اللہ جے یو آئی کا قلعہ ہے، نئی جماعت ہمیں کمزور نہیں کر سکتے، مولانا واسع
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
مجلس عاملہ کے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا واسع نے کہا کہ جے یو آئی کا اس سرزمین سے نظریاتی، عوامی اور تاریخی تعلق کسی نوزائیدہ جماعت کے شور و شرابے سے متاثر نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر و سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ قلعہ سیف اللہ جیسے جے یو آئی کے مضبوط قلعے کو کمزور کرنے کے لیے مختلف دعوے اور پروپیگنڈے کئے جا رہے ہیں، مگر جے یو آئی کا اس سرزمین سے نظریاتی، عوامی اور تاریخی تعلق کسی نوزائیدہ جماعت کے شور و شرابے سے متاثر نہیں ہوسکتا۔ قلعہ سیف اللہ میں ضلعی مجلس عاملہ کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں میں چند سو ووٹ لینے والوں کا قومی اسمبلی کے وسیع حلقے میں جے یو آئی کو شکست دینے کا دعویٰ نہ صرف مضحکہ خیز ہے، بلکہ سیاسی بلوغت سے محرومی کی واضح مثال ہے۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ مولانا سمیع الدین آج الیکشن کے میدان میں پوری ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ انتخاب صرف ایک سیاسی مقابلہ نہیں، بلکہ نظریے اور اصول کی عملی تکمیل ہے۔
مولانا عبدالواسع نے مزید کہا کہ مولانا سید شمس الدین نے دین، ملت، تحفظ ختم نبوت اور جمعیت کے مشن کے لیے جو خدمات انجام دیں، وہ تاریخ کا روشن باب ہیں، اور ان کے افکار و نظریات کو آگے بڑھانے کے لیے ان کا وارث آج میدان میں موجود ہے۔ اسی دوران انہوں نے ایک اہم پیشرفت کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ بہت جلد جمہوری اور حقیقی سیاسی جماعتیں بھی جے یو آئی کے موقف کی تائید کرتے ہوئے، اٹھارہ دسمبر کے ری پول میں جے یو آئی کی باضابطہ حمایت کا اعلان کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہ دسمبر کو قلعہ سیف اللہ ثابت کرے گا کہ جے یو آئی کا یہ قلعہ ناقابل تسخیر ہے۔ یہاں جن کی نظریں بدنیتی سے اٹھتی ہیں، وہ ہمیشہ جھکی رہتی ہیں، اور عوام اپنے ووٹ سے ایک بار پھر نظریے اور شہداء کے وارثین کو سرخرو کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قلعہ سیف اللہ جے یو آئی کا نے کہا کہ
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔