ملک میں گلا سڑا نظام نوجوانوں کو مایوس کررہا ہے، طاقتور آواز اٹھنی چاہیے، حافظ نعیم الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں گلا سڑا نظام نوجوانوں کو مایوس کر رہا ہے۔ نظام کی تبدیلی کے لیے مؤثر اور طاقت ور آواز اٹھنی چاہیے۔
پنجاب کے شہر وزیرآباد میں الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے بلاسود قرض فراہمی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان میں 44 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: سرکاری ملازمین کے لیے بُری خبر، حکومت نے آئی ایم ایف کا اہم مطالبہ مان لیا
حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سمیت کئی اسکیمیں چل رہی ہیں، لیکن غربت ختم نہیں ہو رہی۔ اگر نوجوانوں کو آئی ٹی کے کورسز کرائے جائیں تو وہ مختلف شعبوں میں کام کر سکتے ہیں۔
تقریب میں امیر جماعت اسلامی نے 112 افراد میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 12 لاکھ روپے کے بلاسود قرضے تقسیم کیے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ ملک میں ہر شعبے میں طبقاتی نظام بڑھ رہا ہے اور بے نظیر انکم جیسے پروگرام صرف سیاسی مفاد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ ہمارے پڑوسی ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں یوریا کھاد کی قیمتیں کئی گنا زیادہ ہیں اور حکومت نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم نہیں کر رہی۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک کے نوجوان تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہیں اور موجودہ نظام انہیں مایوس کر رہا ہے۔ فارم 47 کے نظام میں چند طاقتور افراد مسلط ہوتے جا رہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے وزیرآباد کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس طاقتور نظام کے خلاف متحد ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ بنو قابل پروگرام کے تحت نوجوانوں کو آئی ٹی کی تعلیم دی جا رہی ہے اور اب تک ایک لاکھ سے زیادہ نوجوان اس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ حکمران بڑے قرضے لیتے ہیں اور معاف کروا لیتے ہیں، جبکہ ان کے پروگرام کے تحت قرض لینے والے 99 فیصد افراد ادائیگی کر دیتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کرپٹ مافیا کے خلاف متحد ہو کر کوشش کرنا ضروری ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ نوجوانوں کے لیے چھوٹے کورسز کروائے جائیں گے تاکہ وہ خود روزگار حاصل کر سکیں، جبکہ خواتین کے لیے دستکاری کے پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ گھر بیٹھے کمائی کر سکیں۔ خواتین کو مارکیٹنگ ٹولز بھی سکھائے جائیں گے تاکہ اپنے مصنوعات فروخت کر سکیں۔
مزید پڑھیں: سماجی ترقی و غربت کے خاتمے پر عالمی اتفاق، دوحہ سیاسی اعلامیہ منظور
انہوں نے یہ بھی کہاکہ نوجوانوں کے لیے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے تاکہ وہ کھیلوں میں بھی آگے بڑھ سکیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ یہ پاکستان طاقتوروں کا نہیں بلکہ ہمارے نوجوانوں اور عوام کا پاکستان ہے، اور بلدیاتی نظام میں پنجاب میں ہونے والی زیادتیوں کے خلاف آواز بلند کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امیر جماعت اسلامی بلاسود قرض فراہمی حافظ نعیم الرحمان نوجوان مایوس وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی بلاسود قرض فراہمی حافظ نعیم الرحمان نوجوان مایوس وی نیوز حافظ نعیم الرحمان نے امیر جماعت اسلامی الرحمان نے کہ نوجوانوں کو نے کہاکہ انہوں نے رہے ہیں رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔