ویب ڈیسک َ: اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثے آن لائن جمع کروانے اور شائع کرنے کا نظام تیار کرلیا گیا۔

 سال 2026 کے آخر تک اعلیٰ افسران کے اثاثہ جات عوام کے لیے ویب سائٹ پر دستیاب ہوں گے، اینٹی منی لانڈرنگ کے لیے وفاقی و صوبائی افسران کے اثاثوں کی جانچ پڑتال بھی ہوگی۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے اس سے متعلق آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کردیا ہے۔

دستاویز کے مطابق گریڈ 17 سے 22 کے تمام اعلیٰ افسران اپنے ملکی و غیرملکی اثاثے آن لائن جمع کروائیں گے، وفاق اور صوبوں کے تمام سول افسران کے اثاثے بھی لازمی ڈیجیٹل ہوں گے۔

ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی

اثاثوں کی آن لائن اشاعت کے لیے پرائیویسی اور ڈیٹا پروٹیکشن کے انتظامات شامل ہوں گے، رسک بیسڈ ویریفکیشن کا طریقہ کار بھی متعارف کروایا جائے گا۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ بینکوں کو اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثہ جات تک رسائی دی جائے گی، بینک اینٹی منی لانڈرنگ کے لیے وفاقی و صوبائی افسران کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کریں گے۔

بینک سرکاری اداروں کے اہلکاروں کے اثاثوں کی بھی چھان بین کرسکیں گے۔

شدید دھند کے باعث موٹرویز ہرقسم کی ٹریفک کے لئے بند

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: کے اثاثوں کی افسران کے کے لیے

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے