گریڈ 17 تا 22 سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات آن لائن جمع کروانے اور شائع کرنے کا نظام تیار
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
—فائل فوٹو
گریڈ 17 سے 22 تک کے اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات آن لائن جمع کروانے اور شائع کرنے کا نظام تیار کر لیا گیا۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق 2026ء کے آخر تک افسران کے اثاثے ویب سائٹ پر پبلک کر دیے جائیں گے، اس حوالے سے وفاق نے آئی ایم ایف کو آگاہ کر دیا۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ اگلے سال کے آخر تک اعلیٰ افسران کےاثاثوں کی تفصیلات عوام کے لیے ویب سائٹ پر دستیاب ہوں گی، وفاقی و صوبائی افسران کے اثاثوں کی جانچ پڑتال بھی ہو گی۔
گریڈ 17 سے 22 کے افسران اپنے ملکی و غیر ملکی اثاثوں کی تفصیل جمع کروائیں گے۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ وفاق اور صوبوں کے تمام سول افسران کے اثاثوں کی تفصیلات بھی لازمی دستیاب ہوں گی، سرکاری اداروں کے اہل کاروں کے اثاثوں کی چھان بین بھی ہو سکے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: افسران کے اثاثوں کی اثاثوں کی تفصیلات
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔