Jasarat News:
2026-07-24@03:41:07 GMT

صومالیہ نے امریکی صدر کے توہین آمیز رویے کی مذمت کردی

اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251213-06-12
موغادیشو(انٹرنیشنل ڈیسک) صومالی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے توہین آمیز مبنی رویے کے ہوتے ہوئے کوئی مطالبہ منظور نہیں کر سکتا۔صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر مشرقی افریقا کے ملک صومالیہ کے لوگوں کے لیے توہین آمیز الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صومالی وزیر دفاع نے کہا کہ ہم اپنی معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس ریلی کا انعقاد پینسلینیا میں کیا گیا تھا۔دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ تیسری دنیا سے آنے والے امیگرنٹس کی مذمت کرتے ہیں اور ان کے خلاف گاہے گاہے بیانات دیتے رہتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے ایک بار پھر گفتگو کرتے ہوئے صومالی لوگوں کو کچرا قرار دیاتھا۔ صدر ٹرمپ اس وقت اپنی کابینہ کے ارکان سے گفتگو کر رہے تھے ۔ انہوں نے صومالی لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا وہ صرف ایک دوسرے کو قتل کرنے کے لیے دوڑتے بھاگتے ہیں۔ کابینہ کے اجلاس کے دوران ڈیموکریٹک رکن پارلیمان الہان عمر کے خلاف ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک نازک موڑ پر ہے۔ اگر ہم اپنے ملک میں کچرا لانا جاری رکھیں گے تو ہم غلط راستے پر جائیں گے۔ الہان عمر کچرا ہے اور اس کے دوست کچرا ہیں۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو شکایت کرنے کے سوا کچھ نہیں کرتے، وہ جہنم سے آتے ہیں اور شکایت کرتے ہیں، اور بڑبڑانے کے سوا کچھ نہیں کرتے، ہمیں ان کی اپنے ملک میں ضرورت نہیں ہے۔صومالی وزیر فاع احمد معلم نے اپنے بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ کو دوسرے ملکوں کی توہین کرنے کی بجائے اپنے ملک کے عوام سے ووٹوں کے لیے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔وزیر دفاع نے اس موقع پر امریکا کی طرف سے القاعدہ کے خلاف فوجی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ تاہم صومالی عوام کی کردار کشی کو مسترد کر دیا۔وزیر دفاع نے کہا دنیا جانتی ہے کہ صومالیہ کے لوگ دنیا بھر میں اپنی محنت اور جانفشانی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ صومالیہ کے لوگوں میں غیر معمولی لچک پائی جاتی ہے اور وہ ہر طرح کے حالات میں گزارا کر کیتے ہیں۔ انہیں مشکلات میں دھکیل دیا گیا ہے اور یہ کام ان کے دشمنوں نے کیا ہے جو صومالی عوام کے وجود کو ہی برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ وہ ہمیں قتل کرتے ہیں، ہماری توہین کرتے ہیں اور ہمارا مذاق اڑاتے ہیں۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وزیر دفاع نے کرتے ہیں کے لیے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل