ٹائم میگزین نے حال ہی میں اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کی بڑھتی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ یہ روزمرہ زندگی اور کام کے طریقوں میں انقلاب لا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی، جو کبھی صارفین میں سب سے تیزی سے مقبول ہونے والا ایپ تھا، اب ہر ہفتے 800 ملین سے زائد صارفین استعمال کر رہے ہیں، جو دنیا کی کل آبادی کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے۔ یہ اے آئی کے ابھرتے ہوئے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’چیٹ جی پی ٹی‘  نے ایک ارب سے زیادہ ڈاؤن لوڈز کیساتھ ’ٹک ٹاک‘ اور ’انسٹاگرام‘ کو مات دیدی

ٹائم میگزین کی حالیہ تجزیے کے مطابق مئی 2024 سے جون 2025 کے درمیان تقریباً 1.

1 ملین چیٹ جی پی ٹی کے مکالمات سے معلوم ہوا کہ صارفین اس کا استعمال کس طرح کرتے ہیں۔ لکھائی اور عملی رہنمائی ہر ایک تقریباً 28 فیصد کے برابر ہے، جس میں متن کی تدوین، تدریس، ذاتی رابطہ کاری اور دیگر کام شامل ہیں۔

معلومات حاصل کرنے کے لیے 21 فیصد استعمال ریکارڈ کیا گیا، جبکہ باقی استعمال میں ملٹی میڈیا، تکنیکی اور دیگر امور شامل ہیں۔

چیٹ جی پی ٹی کی تیز رفتار ترقی

چیٹ جی پی ٹی کی تیز رفتار ترقی جدید صلاحیتوں اور فیچرز کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ اب ماڈل فوری جوابات دینے کے بجائے قدرتی زبان میں “تفکر” کرتا ہے اور درست نتائج فراہم کرتا ہے۔

صارفین چیٹ بوٹ کو ای میل، کلاؤڈ اسٹوریج، ویب براؤزرز اور کیلنڈرز جیسے بیرونی ٹولز سے بھی جوڑ سکتے ہیں، اور چیٹ جی پی ٹی پچھلی بات چیت کو یاد رکھ کر سیاق و سباق کے مطابق جواب دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی کا نیا انقلابی فیچر کیا ہے؟

چیٹ جی پی ٹی کے سربراہ نک ٹرلی نے کہا کہ “چیٹ جی پی ٹی کا ایسا ماڈل بن جانا جو حقیقی کام کر سکے، ایک بہت اہم تبدیلی ہے۔”

ٹائم میگزین کے مطابق اے آئی اب ہر شخص کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے، اور چیٹ جی پی ٹی کو اب ذاتی معاون اور معلومات کے مرکز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اے آئی ٹائم میگزین چیٹ جی پی ٹی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اے ا ئی ٹائم میگزین چیٹ جی پی ٹی ٹائم میگزین چیٹ جی پی ٹی کے مطابق اے آئی

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے