جیکب آباد،سیپکو کی موسم سرما میں بھی بلاجواز غیراعلانیہ و بدترین لوڈشیڈنگ جاری
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جیکب آباد (نمائندہ جسارت)جیکب آباد سیپکو کی موسم سرما میں بھی بلاجواز غیر اعلانیہ بدترین لوڈشیڈنگ اور ٹرپنگ جاری سٹی ون فیڈر پر 8گھنٹے اعلانیہ اور 4گھنٹے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی شکایات تفصیلات کے مطابق جیکب آبادمیں سیپکو کی جانب سے موسم سرما میں بھی بلا جواز غیر اعلانیہ ،بدترین لوڈشیڈنگ اور ٹرپنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے شہر کے اکثر فیڈر پر اعلانیہ لوڈشڈنگ کے ساتھ چار گھنٹے غیر اعلانیہ لوشیڈنگ کرکے صارفین کو اذیت دی جارہی ہے،پی ڈی سی سکھر، گرڈ عملے کی جانب سے سیپکو ایل ایس کی ملی بھگت سے سٹی ون فیڈر پر 8گھنٹے اعلانیہ اور 4گھنٹے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی شکایات ہیںبدترین لوڈشیڈنگ پر سیپکو حکام سے کوئی پوچھنے والا نہیںسٹی ون ،ٹو ،تھری سمیت دیگر فیڈرس پر 12سے 18گھنٹے بجلی کی بندش معمول ہے ،15منٹ قبل بجلی بند اور 15تاخیر سے اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے وقت بجلی بحال کی جاتی ہے صارفین نے احتجاج کرتے ہوئے وزیر پانی وبجلی اویس لغاری ،چیف سیپکو ،نیپرا اور واپڈا حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: غیر اعلانیہ جیکب ا
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔