ٹک ٹاک نے صارفین کے لیے دو نئے مفید فیچرز متعارف کرا دیے
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چین کی معروف ٹیک کمپنی بائیٹ ڈانس کے زیر انتظام دنیا کی مقبول ترین مختصر ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن ٹک ٹاک نے اپنی پلیٹ فارم کو مزید سوشل اور انٹرایکٹو بنانے کے لیے نئی اپڈیٹس کا اعلان کیا ہے، جو صارفین کو دوستوں اور خاندان کے ساتھ ویڈیوز کو مشترکہ طور پر دیکھنے اور شیئر کرنے کی سہولت فراہم کریں گی۔
ببین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ٹک ٹاک کی جانب سے متعارف کی گئی ان اپڈیٹس میں سب سے نمایاں فیچر شیئرڈ فیڈ ہے، جو خاص طور پر اس مقصد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ فرینڈز اور فیملی ایک ساتھ ویڈیوز دیکھ سکیں اور دلچسپی کے مطابق مواد سے لطف اندوز ہوں۔
شیئرڈ فیڈ میں شامل افراد کے دلچسپی کے مطابق روزانہ 15 ویڈیوز دکھائی جائیں گی اور اسے ڈائریکٹ میسجنگ کے ذریعے دوستوں کے ساتھ شیئر کیا جا سکے گا۔
ٹک ٹاک کے مطابق یہ فیچر اکٹھے مواد کو دریافت کرنے کا ایک نیا اور آسان ذریعہ ہے اور آنے والے مہینوں میں دنیا بھر میں دستیاب ہوگا۔ صارفین کے لیے ایک نیا ڈیش بورڈ بھی متعارف کرایا گیا ہے جہاں وہ اپنی شیئرڈ لائیک ہسٹری اور دیگر ڈیٹا کو دیکھ سکیں گے۔
اس کے علاوہ شیئرڈ کلیکشنز نامی دوسرا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے، جو بنیادی طور پر شیئرڈ فیڈ کی طرح ہے مگر اس میں ویڈیوز کو محفوظ، آرگنائز اور شیئر کیا جا سکتا ہے۔ صارفین بس کسی ویڈیو کو سیو کریں گے اور پھر اس سے شیئرڈ کلیکشن لسٹ بنا کر اسے کسی بھی فرد کو ڈائریکٹ میسج کے ذریعے بھیج سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ فیچر 16 سال یا اس سے زائد عمر کے صارفین کے لیے دنیا بھر میں دستیاب ہوگا۔
مزید برآں، ٹک ٹاک ہالی ڈے کارڈز بھی متعارف کر رہا ہے، جنہیں صارفین ڈائریکٹ میسجز کے ذریعے بھیج سکیں گے۔ یہ فیچر دسمبر کے آخر تک صارفین کے لیے فعال ہو جائے گا، جس سے پلیٹ فارم پر تعلقات اور انٹرایکشن کو نئے انداز میں فروغ ملے گا۔
یہ اپڈیٹس واضح طور پر ٹک ٹاک کی کوشش ہیں کہ وہ اپنی ویڈیو شیئرنگ ایپ کو نہ صرف تفریح کا ذریعہ بلکہ ایک سوشل اور اشتراکی کمیونٹی میں تبدیل کرے، جہاں صارفین نہ صرف دیکھیں بلکہ اپنی دلچسپیوں کو دوستوں اور خاندان کے ساتھ آسانی سے بانٹ سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صارفین کے لیے کے مطابق ٹک ٹاک
پڑھیں:
گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب پولیس کی جانب سے پیش کردہ ایک رپورٹ نے معاشرے میں کھلبلی مچا دی ہے۔ عدالتِ عالیہ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2021 سے اب تک درج ہونے والے گمشدہ خواتین و لڑکیوں کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے، جن میں سے اکثریت کے بارے میں پولیس کا مؤقف ہے کہ ان لڑکیوں نے اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی۔ یہ خبر صرف عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں، بلکہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں موجود گہرے شگافوں کی عکاس ہے۔
رپورٹ کے مطابق 105,244 کیسز رجسٹر ہوئے، جن میں سے 103,351 حل کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار بیک وقت اطمینان اور تشویش کا باعث ہیں۔ اطمینان اس لیے کہ بڑی تعداد میں کیسز حل ہوئے، مگر تشویش اس بات پر کہ آخر اتنی بڑی تعداد میں لڑکیاں اپنے گھر چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟
جب معاشرے میں 80 فیصد گمشدگیوں کی وجہ اپنی مرضی سے شادی قرار دی جاتی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گھر کے اندر موجود حالات اور سماجی دباؤ اس قدر شدید ہو چکے ہیں کہ نوجوان لڑکیاں گھر سے فرار کو ہی اپنی نجات سمجھتی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں شادی کے معاملے پر لڑکی کی مرضی کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ والدین کی خواہشات اور خاندانی وقار کے نام پر لڑکیوں کے جذبات کو کچلا جاتا ہے۔ جب ایک لڑکی کو لگتا ہے کہ اس کی بات سنی نہیں جائے گی، تو وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ کیا شادی کرنا غلط ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ لڑکیوں کو ان کے حقوق، تعلیم اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی فراہم کر رہا ہے؟ جب یہ آزادی سلب کر لی جاتی ہے تو وہ گمشدگی کی رپورٹوں کے ذریعے منظر عام پر آتی ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس معاملے پر جس برہمی کا اظہار کیا، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیس کا کردار محض کیس بند کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے درست کہا کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔
اکثر کیسز میں پولیس کا کردار صرف تب فعال ہوتا ہے جب عدالت سے حکم جاری ہو۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جب تک کوئی اغوا کا ایف آئی آر درج نہ ہو، تب تک پولیس اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔
اس سارے معاملے میں ایک پہلو والدین کا بھی ہے۔ اکثر والدین اپنی بیٹیوں پر اس قدر پابندیاں عائد کر دیتے ہیں کہ وہ نفسیاتی طور پر ٹوٹ جاتی ہیں۔ خاندانوں کے اندر مکالمے کی کمی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد اس بحران کو جنم دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی لڑکی کا گھر چھوڑنا محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جو گھر کے چار دیواری کے اندر شروع ہوتا ہے۔
زیادہ تر اغوا کی ایف آئی آر درج کرانا اکثر اوقات خاندانی عزت بچانے کا ایک طریقہ بھی ہوتا ہے۔ جب والدین اپنی بیٹی کے پسند کی شادی کو تسلیم نہیں کر پاتے، تو وہ اسے اغوا کا نام دے دیتے ہیں۔ اس سے پولیس کا وقت ضائع ہوتا ہے اور حقیقی اغوا کے کیسز پر سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ عدالتی عمل کے دوران جب یہ سچ سامنے آتا ہے کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، تو وہ کیس ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن اس دوران جو سماجی و قانونی کشمکش پیدا ہوتی ہے، وہ خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے تقسیم کر دیتی ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف پولیس کی سختی یا عدالت کے احکامات میں نہیں، بلکہ ہمیں ایک وسیع تر سماجی بحث کی ضرورت ہے۔
خاندانوں میں مکالمہ: والدین کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کرنا چاہیے۔ان کی پسند و ناپسند کو اہمیت دینی چاہیے۔
نفسیاتی مشاورت: تعلیمی اداروں اور کمیونٹی مراکز میں کونسلنگ کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ نوجوان اپنے جذبات کا صحیح اظہار کر سکیں۔
پولیس کا پیشہ ورانہ رویہ: پولیس کو گمشدگی کے کیسز میں زیادہ حساسیت اور پیشہ ورانہ مہارت دکھانے کی ضرورت ہے۔
قانونی شعور: لڑکیوں کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ کسی بھی غیر قانونی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔
لاہور ہائی کورٹ کے اس کیس نے ہمیں ایک آئینہ دکھایا ہے۔ اگر ہم اس آئینے میں دیکھ کر اپنی کوتاہیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
80 فیصد لڑکیوں کا اپنی مرضی سے شادی کرنا ہمارے نظام کی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارے سماجی رویوں کی ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اقدار کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں خواتین کی آواز، ان کی پسند اور ان کا وقار محفوظ ہو۔ عدالتی کارروائی اپنی جگہ، لیکن اصل تبدیلی ہمارے گھروں سے شروع ہوگی۔
یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو قانون کے دائرے سے نکل کر ہمارے دلوں اور ذہنوں تک جاتا ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم لڑکیوں کو بوجھ نہیں، بلکہ ایک فرد سمجھیں جس کی اپنی زندگیاں اور خواب ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں