طالبان اور افغان اولمپک کمیٹی مذاکرات؛ خواتین کھلاڑیوں کیلیے ممکنہ پیش رفت کی امید
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
اولپمک مقابلوں میں افغانستان کی خواتین کھلاڑیوں کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے آئی او سی کی رکن سمیرا اصغری میدان عمل میں آگئیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کی انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (IOC) کی رکن سمیرا اصغری نے طالبان حکام کے ساتھ جاری مذاکرات کو خوش آئند قرار دیا۔
انھوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات افغانستان کی خواتین کے بنیادی حقوق سے متعلق کسی مثبت تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں۔
سمیرا اصغری نے اس بات پر زور دیا کہ طالبان کو عالمی قبولیت چاہیے تو خواتین کے تعلیم اور کھیل کے حقوق تسلیم کرنا ہوں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ طالبان کو یہ حقیقت قبول کرنا ہوگی کہ عالمی سطح پر قبولیت اسی وقت ممکن ہے جب وہ خواتین کو تعلیم اور کھیل کے بنیادی حقوق دینے پر آمادہ ہوں۔
سمیرا اصفری کے بقول اگر پرائمری اسکولوں میں کھیلوں کی سرگرمیوں جیسی چھوٹی پیش رفت بھی ممکن ہو تو اسے ضرور اپنانا چاہیے۔
انھوں نے مزید کہا اس کا مطلب طالبان کی پابندیوں کو قبول کرنا نہیں ہوگا بلکہ یہ افغانستان کی لڑکیوں اور خواتین کو تنہا نہ چھوڑنے کی ایک کوشش ضرور ہے۔
سمیرا اصغر نے یاد دلایا کہ طالبان کے 1996 سے 2001 تک کے پہلے دورِ حکومت میں تعلیم سے محرومی نے ایک پوری نسل کو متاثر کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جب میں 12 سال کی تھی تو ایک 20 سالہ لڑکی میری کلاس میں بیٹھی تھی کیونکہ وہ پہلے تعلیم حاصل نہیں کرسکی تھی۔ وہ کھوئی ہوئی نسل کا حصہ تھی۔ میں چاہتی ہوں کہ ایسا دوبارہ نہ ہو۔
سمیرا اصغری نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا خطرناک ضرور ہے مگر میں رابطے اور بات چیت پر یقین رکھتی ہوں۔ اس وقت طالبان افغانستان کی زمینی حقیقت ہیں اور ہم وقت ضائع نہیں کرسکتے۔
انھوں نے تسلیم کیا کہ ان حالات میں افغان خواتین کھلاڑیوں کی آواز بننا ایک مشکل ذمہ داری ہے مگر وہ خوفزدہ ہوئے بغیر اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والی تمام ہی خواتین کھلاڑی غیر ملکی فوجیوں کے انخلا اور طالبان کی حکومت کے آتے ہی بیرون ملک منتقل ہوگئی تھیں۔
اس لیے افغان خواتین کی ایتھلیٹ، فٹبال اور دیگر کی ٹیموں کو تشکیل دینا اس وقت ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
البتہ یورپ اور آسٹریلیا میں رہنے والی کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم افغان وویمن یونائیٹڈ نے حال ہی میں فیفا کے عالمی مقابلے میں شرکت کی ہے۔
سمیرا اصغری کا کہنا ہے کہ یہ بیرونِ ملک کھلاڑیوں کے لیے پہلا قدم ہے۔ مجھے امید ہے فِیفا بھی طالبان کے ساتھ IOC کی بات چیت میں ہم آہنگی پیدا کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغانستان کی انھوں نے
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
سٹی 42: کفایت شعاری اقدامات میں نائب وزیر اعظم نے مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھا کر بڑا ریلیف دےدیا
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابقنائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے آج وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی
کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا ۔کمیٹی نے مارکیٹوں کے اوقاتِ کار، دن کے اوقات میں اضافے اور گرمیوں کے بلند درجۂ حرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبار بند کرنے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ کیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریستوران، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز رات 11:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔
تاہم ٹیک اوے اور ڈیلیوری سروسز ان اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گی۔شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔ضروری خدمات بشمول فارمیسی، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر معاملات اور کیسز پر بھی غور کیا اور ان کی منظوری دی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات، اور آئی ٹی و ٹیلی کام شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ؛ نائب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی بھی موجود تھے
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم، اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشنز؛ نیز صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔