پاکستان نیوی وار کالج میں 8ویں میری ٹائم سیکیورٹی ورکشاپ اختتام پذیر، چیئرمین سینیٹ کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
پاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 8ویں میری ٹائم سیکیورٹی ورکشاپ کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی، جس کے مہمانِ خصوصی چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی نے پاکستان کی بلیو اکانومی کی ترقی اور اس کی بے پناہ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سمندر 21ویں صدی میں انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں اور ملکی سلامتی، معاشی استحکام اور علاقائی تعاون کے لیے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاک بحریہ اور رائل نیوی آف عمان کی دوطرفہ بحری مشق، تجربات کا تبادلہ
سید یوسف رضا گیلانی نے ملکی سمندری سرحدوں کے دفاع اور علاقائی میری ٹائم سیکیورٹی کے لیے پاک بحریہ کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاک بحریہ قوم میں سمندروں کی اہمیت اور قومی سلامتی کے ساتھ اس کے گہرے تعلق کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے جہاز رانی، ماہی گیری اور دیگر بحری شعبوں کی استعداد بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان صنعتوں کی مضبوطی ملکی معاشی و سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
تقریب میں آمد پر چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے مہمان خصوصی کا استقبال کیا، جبکہ کمانڈانٹ پاکستان نیوی وار کالج ریئر ایڈمرل سہیل احمد عزمی نے ورکشاپ کی سرگرمیوں اور مقاصد پر روشنی ڈالی۔
یہ بھی پڑھیے: پاک بحریہ کا بحیرہ عرب کا کامیاب آپریشن، 1500 کلو گرام منشیات ضبط
میری ٹائم سیکیورٹی ورکشاپ پاک بحریہ کا سالانہ پروگرام ہے، جس میں اراکینِ پارلیمنٹ، پالیسی ساز، بیوروکریٹس، ماہرینِ تعلیم، کاروباری افراد، مسلح افواج کے افسران اور میڈیا نمائندگان شرکت کرتے ہیں۔
ورکشاپ کا مقصد بحری سلامتی، عالمی جیوپولیٹکس اور بحرِ ہند کے اسٹریٹجک ماحول کے بارے میں شعور اور فہم میں اضافہ کرنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چیئرمین سینیٹ میری ٹائم سیکیورٹی نیوی کالج یوسف رضا گیلانی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیئرمین سینیٹ میری ٹائم سیکیورٹی نیوی کالج یوسف رضا گیلانی میری ٹائم سیکیورٹی چیئرمین سینیٹ پاک بحریہ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔