ڈالر کی قیمت میں مزید کمی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
کراچی:
زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں مسلسل 58 ویں روز بھی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ تگڑا رہا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر، ترسیلات میں تسلسل سے اضافے، امریکا کی پاکستان کے ساتھ اہم شراکت دار کے طور پر ابھرنے، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن اور امریکی ایگزم بینک کے تعاون سے ریکوڈک کاپر پراجیکٹ میں 7ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پلان جیسے عوامل کے باعث زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں جمعہ کو 58ویں دن بھی ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا۔
عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) سے فنڈ کے اجرا کے بعد ادائیگیوں کا توازن مضبوط، زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت ملنے سے انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے تمام دورانیے میں ڈالر اتار چڑھاو کے ساتھ تنزلی سے دوچار رہا، جس سے ایک موقع پر ڈالر کی قدر 25پیسے کی کمی سے 280روپے 11پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی۔
انٹربینک مارکیٹ میں سپلائی میں بہتری آتے ہی معیشت میں طلب بڑھنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر مزید 04پیسے کی کمی سے 280روپے 32پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
دوسری جانب اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر 04پیسے کی کمی سے 281روپے 36پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
رواں سال پاکستان کی جی ڈی پی نمو 3فیصد رہنے، برآمدات میں بتدریج اضافے، اسٹیٹ بینک کی ایکس چینج کمپنیوں کو فنگر پرنٹ کے ساتھ چہرے کی شناخت کے دوہرے بائیو میٹرک تصدیق کے ساتھ سسٹم اپ گریڈ کرنے کے احکامات اور کرنسی کی غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف تابڑ توڑ کارروائیاں بھی زرمبادلہ کی مارکیٹوں پر اثرانداز ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مارکیٹ میں ڈالر کی کے ساتھ
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔