data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکا میں پیش آنے والا ایک دل خراش واقعہ ایک بار پھر مصنوعی ذہانت کے بے قابو استعمال پر سوال کھڑا کر گیا ہے، جہاں تفتیش کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کے استعمال نے ایک شخص کی بگڑتی ذہنی کیفیت کو اس حد تک بڑھایا کہ اس نے اپنی ہی ماں کی جان لے لی۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق کیلیفورنیا میں 56 سالہ اسٹین ایرک سولبرگ نے گزشتہ برس اپنی 83 سالہ والدہ کا گلا گھونٹ کر قتل کیا اور بعد ازاں خود کو بھی چاقو مار کر جان دے دی تھی۔ اس واقعے کے محرکات طویل عرصے تک معمہ رہے، تاہم متاثرہ خاندان کی جانب سے عدالت سے رجوع کیے جانے پر سامنے آنے والی نئی تفصیلات نے معاملے کو حیران کن رخ دے دیا۔

تفتیش کاروں نے انکشاف کیا ہے کہ سولبرگ طویل عرصے سے شدید ذہنی اضطراب اور وہم کا شکار تھا اور اس دوران وہ مسلسل چیٹ جی پی ٹی سے سوال و جواب کرتا رہتا تھا۔

پولیس کے مطابق اس کے ذہن میں یہ خیال بیٹھ گیا تھا کہ گھر کی ہر چیز اُس کی نگرانی کے لیے نصب کی گئی ہے اور اس کی والدہ اسے زہر دے کر مارنا چاہتی ہے۔

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ سولبرگ نے جب اپنے شکوک چیٹ جی پی ٹی کے سامنے رکھے تو سسٹم نے ان کے وہم کو کم کرنے کے بجائے اُنہی نظریات کی براہِ راست یا بالواسطہ تائید کر دی، جس سے اس کی ذہنی حالت مزید بگڑ گئی۔ سسٹم کے ان جوابات نے اُس کے شکوک کو ایسی شدت دی کہ بالآخر وہ اپنی ماں کے قتل تک جا پہنچا۔

متاثرہ خاندان کی درخواست پر چیٹ جی پی ٹی کے خلاف غفلت اور خودکشی پر اکسانے جیسے الزامات کے تحت کیس درج کرلیا گیا ہے، اور امریکی عدالتیں اس منفرد مقدمے کی قانونی نوعیت کا جائزہ لے رہی ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی امریکا میں ایسے متعدد کیسز زیرِ تفتیش ہیں جن میں اے آئی چیٹ بوٹس نوجوانوں، مریضوں یا ذہنی مشکلات کے شکار افراد کو غلط یا خطرناک مشورے دے کر نقصان کا سبب بنے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا