ڈھاکہ، انقلاب منج کے ترجمان پر قاتلانہ حملہ، چیف ایڈوائزر کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے کہا ہے کہ ڈھاکہ میں انقلاب منچ کے ترجمان اور ڈھاکہ کے آزاد امیدوار شریف عثمان ہادی پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ ملک کے وجود پر حملے کے مترادف ہے۔
چیف ایڈوائزر نے ریاستی گیسٹ ہاؤس جمنا میں ایڈوائزری کونسل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں، مسلح افواج اور انٹیلی جنس حکام کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں قانون کے مشیر آصف نذرول، داخلہ امور کے مشیر محمد جہانگیر عالم چوہدری، اطلاعات و نشریات کی مشیر سیدہ رضوانہ حسن، توانائی کے مشیر محمد فوزال کبیر خان، مقامی حکومت کے مشیر عادل الرحمٰان خان، ثقافت کے مشیر مصطفی سرور فاروکی اور قومی سلامتی کے مشیر خلیل الرحمن سمیت پولیس، فوج اور انٹیلیجنس کے اعلیٰ حکام شریک تھے۔
’ملک کے جمہوری سفر کو نقصان پہنچانے کی منظم کوشش ہے‘چیف ایڈوائزر نے اجلاس میں کہا کہ یہ واقعہ عبوری حکومت کے دور میں پیش آنے والے انتہائی تشویشناک واقعات میں سے ایک ہے اور ملک کے جمہوری سفر کو نقصان پہنچانے کی منظم کوشش ہے، اس حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک دشمن عناصر ریاست کے وجود کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایسی سازشوں کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آنے والے عام انتخابات اور ریفرنڈم کو سبوتاژ کرنے کے لئے ایک وسیع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی حمایت سے پرسکون اور بھرپور شمولیت والا انتخابی عمل یقینی بنایا جائے گا۔
صحت کے امور کے معاون محمد سیدالرحمن نے اجلاس کو بتایا کہ شریف عثمان ہادی کی حالت انتہائی نازک ہے اور ان کے اہلخانہ کی درخواست پر انہیں ایور کیئر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
حملہ آوروں کو جلد گرفتار کرنے کی ہدایتچیف ایڈوائزر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ حملہ آوروں اور ان کے سرپرستوں کو جتنی جلد ممکن ہو گرفتار کیا جائے اور عوام سے ہادی کی صحتیابی کے لئے دعا کی اپیل کی۔
پولیس حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ جائے وقوعہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت تمام اہم شواہد اکٹھے کر لئے گئے ہیں۔ چیف ایڈوائزر نے سرحدی نگرانی مزید سخت کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ یہ یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی ملزم ملک سے فرار نہ ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ جولائی کی بغاوت کے دوران مزاحمت کرنے والے وہ تمام افراد جو اب ممکنہ طور پر نشانہ بن سکتے ہیں ان کے لئے خصوصی سیکیورٹی کا انتظام کیا جائے۔
انتخابی دوران عدم استحکام روکنے کے لئے اجلاس میں ملک گیر خصوصی ہاٹ لائن کے قیام کی منظوری دے دی گئی تاکہ ہنگامی حالات میں فوری کارروائی کی جا سکے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی اور مسلح گروہوں کے مشتبہ ٹھکانوں کی تلاش کے لئے آپریشنز تیز کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
چیف ایڈوائزر جلد ہی سیاسی رہنماؤں سے بھی سیکیورٹی صورت حال پر مشاورت کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انقلاب منچ بنگلہ دیش پروفیسر نوس قاتلانہ حملہ مذمت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انقلاب منچ بنگلہ دیش پروفیسر نوس قاتلانہ حملہ چیف ایڈوائزر نے کے مشیر نے کہا کہا کہ کے لئے اور ان
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔