ریڈ لائنز کراس کرنیوالے کی سیاست ختم شد ہے: طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
طلال چوہدری—فائل فوٹو
وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ریڈ لائنز کراس کرنے والے کی سیاست ختم شد ہے۔
’جیو نیوز‘ کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کے دوران طلال چوہدری نے کہا کہ ہم نے آمریت کا بھی سامنا کیا ہے، سیاسی آمر بانیٔ پی ٹی آئی کا بھی سامنا کیا۔
انہوں نے کہا کہ بہت سارے لوگوں نے ن لیگ کو ختم کرنے کی کوشش کی، عوام ہمیں کارکردگی پر ووٹ دیتے ہیں، پنجاب کا کسی صوبے سے موازنہ کر لیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت سے مدد لینا، بھارتی ایجنڈا آگے بڑھانا، 9 مئی کیا یہ کوئی سیاسی جماعت کر سکتی ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ ریڈ لائنز کراس کرنے والے کی سیاست ختم شد ہے، فیض حمید کو ریڈ لائنز کراس کرنے پر سزا ہوئی ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ ہماری توجہ عوام کی زندگی بہتر بنانا ہے، دہشت گردی ختم کرنی ہے، جنہوں نے پاکستان کو نقصان پہنچایا ان کا احتساب کیوں نہ ہو؟
انہوں نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے بہت سارے فیصلے فیض حمید کے مشورے سے کیے تھے، کافی چانسز ہیں کہ حکومت سے نکلنے کے بعد جو کچھ ہوا ان کے مشورے پر ہوا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی اور فیض حمید کا گٹھ جوڑ پوری دنیا کو پتہ ہے، بانیٔ پی ٹی آئی کے گھر پر کیا پکنا ہے، اس کا فیصلہ بھی فیض حمید کرتے تھے۔
اُن کا کہنا ہے کہ بینفیشری تو اس سب میں پی ٹی آئی تھی، نقصان پاکستان کے عوام کا ہوا، ادارے خود احتسابی کر رہے ہیں، عدلیہ اور سیاسی جماعتوں کو بھی کرنی چاہیے، یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ سب کچھ کرنے والا سیاست بھی کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ریڈ لائنز کراس طلال چوہدری پی ٹی ا ئی نے کہا کہ فیض حمید
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ