سندھ میں سرداری نظام ناسور بن چکا: ام رباب چانڈیو
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
ام رباب چانڈیو—
ضلع دادو سے تعلق رکھنے والی ام رباب چانڈیو نے کہا ہے کہ سندھ میں سرداری نظام ناسور بن چکا، جس سے ہزاروں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔
ام رباب چانڈیو کے دادا، والد اور چچا کے قتل کیس کی سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔
دوران سماعت ایم پی اے سردار احمد چانڈیو، ایم پی اے برہان چانڈیو اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے، ملزمان کے وکیل کے حتمی دلائل مکمل نہ ہونے پر سماعت 9 گھنٹے بعد ملتوی کر دی گئی۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ام رباب چانڈیو نے کہا کہ تہرے قتل کا کیس صرف میرے گھر کا مسئلہ نہیں، میری جدوجہد ہر مظلوم کے انصاف کی جنگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں سرداری نظام ناسور بن چکا، ہزاروں لوگ متاثر ہیں، عدالتی تاخیر کی وجہ سے لوگ کیسز نہیں لڑتے، ظلم کے خلاف سر پر کفن باندھ کر کھڑی ہوں عدالت انصاف کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ام رباب چانڈیو
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔