اسلام آباد (عترت جعفری) صوبوں کے ساتھ نیشنل ٹیکس کونسل کے قیام کے حوالے سے بات چیت ہو رہی ہے اور توقع ہے کہ مئی تک صوبوں کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو جائے گا جس کے بعد معلومات کی شیئرنگ کا عمل متحرک ہو جائے گا۔ رپورٹ میں آئی ایم ایف نے کہا ہے پاکستان میں حالیہ برسوں میں غربت میں اضافہ ہوا ہے، غربت کی شرح 25.
3 فیصد ہو چکی ہے۔ حکومت کو غربت کے خاتمہ کے لیے کوششوں کی کڑی نگرانی کرنی چاہیے۔ صحت اور تعلیم کے لیے بجٹ 2.2 سے بڑھ کر 2.5 فیصد ہوا۔ وفاقی حکومت، پنجاب، بلوچستان نے صحت اور تعلیم کے حوالے سے اپنے بجٹ اہداف کو حاصل کیا تاہم سندھ اور کے پی کے نے اپنے اہداف حاصل نہیں کیا۔ سندھ تو اپنے ہدف سے 16 فیصد پیچھے رہا۔ اس کی وجہ سندھ میں فنڈز مختص کرنے کے مرحلہ میں رکاوٹیں پیدا کرنا ہے۔ رواں مالی سال کے لیے 17 ہزار 35 ارب روپے کا ٹیکس ریونیو کی توقع ہے تاہم مالی سال کے اختتام تک 16730 ارب روپے جمع ہو سکیں گے۔ اس طرح شارٹ فال کا خدشہ موجود ہے۔ آئی ایم ایف نے آئندہ
مالی سال کے لیے 19222 ارب روپے کی ٹیکس ریونیو پروجیکشن کی۔ آئندہ مالی میں 1638 ارب روپے پٹرولیم سرچارج کی جمع ہونے کا تخمینہ ہے۔ آئی ایم ایف رواں مالی سال میں 64 ملین ڈالر کی بجٹ گرانٹ دے گا اور آئندہ سال یہ گرانٹ 58 ملین ڈالر ہوگی۔ رواں مالی سال کے دوران دفاع کے اخراجات پر 2575 ارب روپے لگنے کا تخمینہ ہے اور آئندہ سال یہ تخمینہ 2874 ارب روپے کا لگایا گیا ہے۔ آئی ایم ایف رواں پروگرام کے تحت اپنا اگلا جائزہ مارچ میں کرے گا۔ اسی جائزہ میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے جاری پروگرام کا جائزہ بھی ہوگا۔ آئی ایم ایف نے جغرافیائی کشیدگی کے حوالے سے بھی خبردار کیا ہے جس سے اشیاء کی قیمتوں پر دباؤ آسکتا ہے اور سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔ آئی ایم نے پاکستان کے ٹیرف کو بہت زیادہ بلند قرار دیا۔ ایف بی آر میں، کمپلائنس رسک مینجمنٹ سسٹم پر عمل کیا جا رہا ہے اور یہ کارپوریٹ ٹیکس پیئرز کے ساتھ ساتھ اب نان کارپوریٹ ٹیکس پئیرز پر بھی لاگو کیا جائے گا۔ اس سسٹم کے تحت اور ترجیحی کیسز آڈٹ کے لیے منتخب کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں 250 ایڈیٹرز کی خدمات دی گئی ہیں تاکہ انفورسمنٹ کو بڑھایا جا سکے۔ پی او ایس سسٹم جو ریٹیلرز کے لیے ہے اس وقت 38 فیصد شعبہ کو کور کر رہا ہے۔ اس کا دائرہ ملک بھر میں 40 ہزار ریٹیلرز تک دو سال کے اندر بڑھا دیا جائے گا۔ 500 ، ملین تک کی سالانہ سیلز کے ٹیکس گزاروں کی انوائسز کا 75فی صد حصہ ڈیجیٹل انوائسنگ میں شامل کر دیا جائے گا اور یہ کام 30 جون تک مکمل کیا جائے گا۔ مالی سال میں چار ارب ڈالر کے فنانسنگ گیپ کو پورا کرنا حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہوگا۔ بین الاقوامی بانڈ کے اجرا سے 25 کروڑ ڈالر حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ:
ا ئی ایم ایف
کے حوالے سے
مالی سال
ارب روپے
جائے گا
کے لیے
سال کے
ہے اور
پڑھیں:
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے، چین نے مکئی کی درآمد کے لئے پاکستانی تاجروں کی رجسٹریشن بھی شروع کردی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق رائس ایکسپورٹرز ایسوسی کے وفد کا دورہ چین کامیابی سے جاری ہے ، جس دوران چاول کی برآمد کیلئے چین کے دو صوبوں کے ساتھ وفد نے ایم او یو سائن کر لیے ہیں، 30 سے 40 کروڑ ڈالر مالیت کے چاول کی فروخت کے معاہدے متوقع ہیں ہیں۔رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید جیلانی کا کہناتھا کہ چین کو پاکستان سے مکئی کی برآمد بھی جلد شروع ہو جائے گی،چین کو باسمتی اور نان باسمتی دونوں اقسام کے چاول برآمد کریں گے،رواں مالی سال چاول کی برآمدات دوبارہ 3ارب ڈالر کی سطح عبور کر جائیں گی، چین کا دورہ جاری ہے مزید آرڈرز ملنے کا امکان ہے۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :