اداکارہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے کیس میں ملزمان کو 20 سال قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
بھارتی فلم انڈسٹری کے سب سے سنسنی خیز اغوا اور جنسی زیادتی کے ہائی پروفائل کیس میں عدالت نے مرکزی ملزم پلسر سنی سمیت 6 افراد کو 20 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنادی۔
عدالت نے سزائے موت نہ دینے کی وجہ مجرموں کی بڑھتی عمر اور خاندانی حالات کو قرار دیا۔ مرکزی ملزم پلسر سنی سمیت دیگر 5 مجرموں کو اداکارہ کے اغوا اور گاڑی میں اس پر حملے کے جرم میں قانون کے تحت 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیشی کرکٹر پر شادی کا جھانسہ دے کر جنسی زیادتی کا سنگین الزام، چارج شیٹ جمع
فیصلہ سنائے جانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ کی وکیل ٹی بی منی نے ایک بار پھر اپنا مؤقف دہرایا کہ ’مجھے یقین ہے کہ دلیپ مجرم ہے‘۔
یہ اداکارہ جو کئی سالوں پر محیط قانونی جنگ کا سامنا کرتی رہی ہیں کیرالہ کے سب سے زیادہ زیرِ بحث رہنے والے مقدمات میں سے ایک مرکز رہی ہے۔
فیصلہ سنائے جانے سے قبل پلسر سنی نے عدالت کو بتایا کہ اس کی عمر رسیدہ ماں ہے جس کی دیکھ بھال ضروری ہے۔ ایک اور مجرم مارٹن نے کہا کہ میری بیوی، 9 سال کا بیٹا اور ڈھائی سال کی بیٹی ہے۔ میں ہی ان کا واحد سہارا ہوں۔ مارٹن نے روتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ میں 5.
یہ بھی پڑھیں: مبینہ زیادتی کے ملزم پولیس سپاہی کے حق میں فیصلہ آنے پر خاتون نے خود کو آگ لگا دی
فیصلہ سنائے جانے سے قبل استغاثہ نے دلائل دیے کہ تمام چھ ملزمان کو سزائے موت دی جانی چاہیے تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سزا صرف ملزمان کے لیے ہی نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی ایک سخت مثال قائم کرنی چاہیے۔
2017 میں پیش آنے والا یہ واقعہ ملیالم فلم انڈسٹری کے لیے ایک بڑا جھٹکا ثابت ہوا تھا جس نے خواتین فنکاروں کی سلامتی، طاقت کے عدم توازن اور صنعت کے اندرونی نظام پر وسیع بحث کو جنم دیا۔
اداکار دلیپ اور 3 دیگر افراد چارلی تھامس، سنیل کمار اور سارتھ کو الزامات سے بری کردیا گیا ہے جبکہ دلیپ کے وکلا نے عدالت سے ان کا پاسپورٹ واپس کرنے کی درخواست بھی دائر کردی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اداکارہ کے ساتھ زیادتی انڈیا میں ریپ؎ عدالتی فیصلہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اداکارہ کے ساتھ زیادتی عدالتی فیصلہ کے لیے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔