فیض حمید 9 مئی میں ملوث، عمران خان کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہوسکتا ہے، رانا ثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
وزیراعظم شہبازشریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا کہ 9 مئی میں فیض حمید پوری طرح ملوث ہیں، ان کے ساتھ ملوث سیاستدانوں کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہوسکتا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ ان سمیت جن جن سیاسی رہنماؤں پر کیسز بنے تھے، خواہ وہ نواز شریف ہوں، مریم نواز ہوں، شہباز شریف ہوں، شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کے خلاف بھی کیسز بنے، خواجہ سعد رفیق تھے، حنیف عباسی کو سزا ہوئی تھی، اس وقت فیض حمید سیاہ و سفید کے مالک تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر پی ٹی آئی بات چیت کے لیے تیار ہے تو حکومت بھی تیار ہے، رانا ثنا اللہ کی بڑی پیشکش
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں فیض حمید کے بغیر پتہ نہیں ہلتا تھا، فیض حمید کی منظوری سے سب کچھ ہوتا رہا اور وہ ذاتی طور پر چیزوں میں ملوث تھے، جیسا انسان کرتا ہے تو ایک دن پھر انہی چیزوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، فیض حمید کو سزا مکافاتِ عمل ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف سمجھتے ہیں کہ پاکستان 2017-18 میں ٹریک پر آ چکا تھا، ملک معاشی طور پر آگے بڑھنے والا تھا، 1998 میں ایٹمی قوت بن چکا تھا، عمران خان کو ایک پراجیکٹ کے طور پر لایا گیا اور ملک کا بھٹہ بٹھایا گیا، آج ملک جس حال میں ہے یہ انہی کی وجہ سے ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ 12 اکتوبر 1999 اگر اس ملک میں نہ آتا تو آج ملک بہت بہتر پوزیشن میں ہوتا، اگر عمران خان کو نہ لایا جاتا تو آج ہم جی 20 کا حصہ بھی ہوتے اور ایک ترقی یافتہ ملک کے طور پر خوشحالی کی منزل پا چکے ہوتے، اس پراجیکٹ کو لانے میں ججز بھی شامل تھے، ثاقب نثار اور ان کے رفقا شامل ہیں اور فیض حمید کے ساتھ بھی مزید لوگ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ کے باہر احتجاج ہوا تو عمران خان کو کسی دوسری جیل منتقلی پر غور ہوگا، رانا ثنااللہ
انہوں نے کہا کہ جنرل باجوہ بھی فیض حمید کے ساتھ شامل تھے، نواز شریف تو اس وقت بھی کہتے رہے ہیں جب جنرل باجوہ طاقت میں تھے، نواز شریف جنرل باجوہ کا نام لے کر کہتے رہے ہیں کہ وہ ذمہ دار ہیں، اس سے پہلے ظہیرالاسلام تھے، ان سے پہلے شجاع پاشا تھے، ان سب لوگوں نے اپنا اپنا کردار ادا کیا تو پھر جا کے عمران پراجیکٹ لانچ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات اور آرمی چیف کی تقرری کے وقت لانگ مارچ میں فیض حمید کا بہت عمل دخل تھا، پی ٹی آئی کی ٹاپ لیڈرشپ اس حوالے سے فیض حمید کے ساتھ رابطے میں تھی، فیض حمید ہی اس لانگ مارچ کے ڈائریکٹر تھے اور 9 مئی کے واقعات میں بھی ان کا ہاتھ تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان الزامات پر فیض حمید کے خلاف کیس چلتا ہے تو ان کے ساتھ جو سیاستدان ملوث تھے ان کو بھی شریک ملزمان کے طور پر پراسیکیوٹ کیا جائے گا، اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، تحقیقات میں جو چیزیں سامنے آئیں گی ان کے مطابق ہی کیس فائل ہوگا، شاید وہ کیس ملٹری کورٹ میں ہی جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ثاقب نثار جنرل باجوہ عمران خان فیض حمید فیلڈ مارشل عاصم منیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنرل باجوہ فیض حمید فیلڈ مارشل عاصم منیر رانا ثنااللہ فیض حمید کے جنرل باجوہ نواز شریف نے کہا کہ کے ساتھ
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔