عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی سے متعلق رانا ثنااللہ کا اہم بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اڈیالہ کے باہر مستقل احتجاج کی صورت میں حکومت عمران خان کی جیل منتقلی کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔
پروگرام ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے بطور جماعت اور عمران خان نے ادارے پر براہ راست تنقید کی، ادارے کے خلاف بات چیت کو لوگ پسند نہیں کریں گے، بھارت ہمارا دشمن ملک ہے لیکن عمران خان نے پراپیگنڈے میں اس کا ساتھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے گفتگو کا کوئی طریقہ کار نہیں اپنایا جاسکتا، ماضی میں پی ٹی آئی سے بات چیت کی کوشش کی گئی لیکن عمران خان کے اپنے بیانات کی وجہ سے ڈیڈ لاک کی صورتحال پیدا ہوئی۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو چاہے کہ اڈیالہ کے باہر امن و امان کی صورتحال کو خراب نہ کریں، اگر یہ مستقل معمول بنا لیں گے کہ ہر منگل اور جمعرات کو اڈیالا کےقریب احتجاج کریں گےتو اس صورت میں حکومت عمران خان کی کسی جیل منتقلی کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔
وزیراعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی بطور جماعت اور عمران خان 9 مئی اوراپنے بیانات سےلاتعلقی کا اظہار کریں اور معذرت کریں، ایسی صورت میں شاید کوئی راستہ کھلے، اگر عمران خان اپنے بیانات پرقائم رہتے ہیں توڈیڈ لاک برقرار رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول کی سوچ ہمیشہ سیاسی اور جمہوری حوالے سے واضح رہی ہے، بلاول نے ہمیشہ افہام و تفہیم کی بات کی ہے، ہم چاہتے تھے کہ تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت ہونی چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر خود کہہ چکےکہ سیاسی جماعتیں آپس میں بات کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔