گاڑیوں کی درآمد پر پابندی کے بعد کیا قیمتیں بڑھ جائیں گی؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
پاکستان کی مستقبل کی آٹو پالیسی کے حوالے سے جاری بات چیت میں بعض پالیسی سازوں اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز نے گاڑیوں کی درآمدات کو محدود کرنے یا مکمل پابندی لگانے کے امکان کا عندیہ دیا ہے۔
اگرچہ دسمبر 2025 تک ایسی کوئی پابندی نافذ نہیں کی گئی لیکن سوال یہ ہے کہ اس سے گاڑیوں کی قیمتوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ کیا ایسی پابندی گاڑیوں کی قیمتیں بڑھا دے گی؟
یہ بھی پڑھیں: نئی پالیسی کے تحت آنے والی امپورٹڈ گاڑیوں کی قیمتیں کیا ہوں گی؟
پاکستان کی آٹو مارکیٹ میں مقامی اسمبل شدہ گاڑیاں اور درآمد شدہ استعمال شدہ گاڑیاں دونوں شامل ہیں۔ 2025 کے دوسرے نصف میں حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی، جس کے تحت تجارتی درآمدات پر 40 فیصد ڈیوٹی لاگو کی گئی۔ اس کے باوجود صنعت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ استعمال شدہ درآمد شدہ گاڑیاں مقامی اسمبلرز کے لیے دباؤ پیدا کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر درآمدات پر پابندی لگائی گئی تو مارکیٹ سے قیمت کے لحاظ سے حساس گاڑیوں کی بڑی تعداد غائب ہو جائے گی۔ اس کے نتیجے میں نئی اور استعمال شدہ مقامی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے، کیونکہ مقامی اسمبلرز کے پاس کم مقابلے کے سبب قیمتیں بڑھانے کی گنجائش بڑھ جائے گی جبکہ درآمد شدہ پرزہ جات پر انحصار پابندی کے اثرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شرح سود میں کمی، گاڑیوں کی قیمتیں کب اور کتنی کم ہوں گی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے حکومت کو بڑے پیمانے پر مقامی مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ ٹیکس اور سبسڈی کی مراعات فراہم کرنی ہوں گی، مقابلے کو فروغ دینے والے ریگولیٹری اقدامات کرنے ہوں گے اور معیار و حفاظتی ضوابط کو یقینی بنانا ہوگا۔ بصورت دیگر پابندی صارفین کے لیے مہنگائی اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کا سبب بن سکتی ہے۔
موجودہ مارکیٹ اور صنعت کے ڈھانچے کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ درآمد شدہ گاڑیوں پر پابندی کی صورت میں نئی اور استعمال شدہ گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ تقریباً یقینی ہے۔ صارفین اور صنعت کے ماہرین کو اس حوالے سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور اگر پابندی نافذ کی گئی تو اس کے فوری اثرات میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گاڑیاں گاڑیوں کی درآمد گاڑیوں کی قیمتیں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: گاڑیاں گاڑیوں کی درا مد گاڑیوں کی قیمتیں گاڑیوں کی قیمتیں استعمال شدہ کے لیے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔