اسلام آباد:

وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت (فوسپا) نے اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ میں واقع 10 کروڑ روپے مالیت کی وراثتی جائیداد کے تنازع کو حل کر دیا ہے اور ہما بتول کو اس کا قانونی حصہ فراہم کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

شکایت گزار ہما بتول نے اپنے والد کی جائیداد میں اپنے حصے کے حصول کے لیے درخواست دی تھی، جس میں وہ اپنے دو بھائیوں اور والدہ کے خلاف قانونی دعویٰ لے کر سامنے آئی تھیں۔ فوسپا نے اس سلسلے میں سب سے پہلے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) سے جائیداد کی باقاعدہ الاٹمنٹ قانونی ورثاء کے نام کروائی۔

شکایت موصول ہونے کے بعد فریقین کے درمیان مصالحت کا عمل شروع کیا گیا، اور بنیادی اختلاف جائیداد کی قیمت کے تعین پر تھا۔ شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے فوسپا نے ایک مقامی کمیشن مقرر کیا جس نے جائیداد کی مارکیٹ ویلیو 10 کروڑ روپے مقرر کی۔

تمام فریقین نے اس قیمت پر اتفاق کرتے ہوئے مشترکہ بیان ریکارڈ کروایا اور معاملہ خوش اسلوبی سے حل کر دیا گیا۔ طے شدہ معاہدے کے مطابق ہما بتول کو 1 کروڑ 75 لاکھ روپے بطور قانونی حصہ مکمل طور پر ادا کر دیے گئے ہیں۔

رقم وصول کرنے کے بعد شکایت گزار نے اپنے بھائی عاصم مقبول کے حق میں بھی بیان جمع کروایا، جس کے بعد معاملہ مکمل طور پر طے پا گیا۔

فوسپا کے ترجمان نے بتایا کہ اس فیصلے سے نہ صرف قانونی وراثتی حقوق کی حفاظت یقینی بنی بلکہ خاندان کے درمیان تنازعے کو بھی خوش اسلوبی سے حل کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار  تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا  تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار