پاکستان میں ہائی پروفائل کورٹ مارشلز کی تاریخ
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائے جانے کے بعد پاکستان میں اعلیٰ سطح پر ہونے والے کورٹ مارشلز کی تاریخ ایک بار پھر موضوعِ گفتگو بن گئی ہے۔ ملک میں فوجی احتساب کے کئی اہم مقدمات پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں جنہوں نے عوامی توجہ حاصل کی اور ادارہ جاتی کارروائیوں کی مثال بنے۔
پاکستان کی فوجی تاریخ میں متعدد ایسے سینیئر افسران گزرے ہیں جن کے خلاف سنگین الزامات پر کارروائیاں ہوئیں۔ ذیل میں ان اہم کیسز کا خلاصہ پیش ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد منیر خان، لیفٹیننٹ جنرل (ر) افضل مظفر2009 میں این ایل سی کو 1.
یہ بھی پڑھیں:آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ثابت،جنرل فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی، آئی ایس پی آر
جنرل کیانی نے معاملہ نیب کے بجائے آرمی ایکٹ کے تحت چلانے کا فیصلہ کیا۔ 2015 میں تحقیقات مکمل ہونے پر 2 ریٹائرڈ جنرلز سمیت متعدد افراد کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔
خالد ظہیر کو سروس سے برطرف جبکہ افضل مظفر کو ’سیویئر ڈِسپلیژر‘ کی سزا سنائی گئی۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقباللیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال کو حساس معلومات بیرونی ایجنسیوں کو دینے کے الزام میں مئی 2019 میں 14 سال قید کی سزا ہوئی، جسے بعد ازاں مختلف مراحل میں کم کر دیا گیا۔جس کے بعد وہ رہا ہوگئے۔
میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی اور دیگر1995 میں میجر جنرل عباسی اور متعدد افسران پر الزام لگا کہ وہ کور کمانڈرز کانفرنس پر حملہ کر کے حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔
فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے میجر جنرل عباسی کو 7 سال جبکہ بریگیڈیئر مستنصر باللہ کو 14 سال قید کی سزا سنائی۔ دیگر افسران کو 4-4 سال قید ہوئی۔
بریگیڈیئر (ر) علی خان2011 میں بریگیڈیئر (ر) علی خان کو کالعدم تنظیم حزب التحریر سے تعلق اور فوج میں بغاوت کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
فوجی عدالت نے انہیں 5 سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔ ان کے ساتھ متعدد میجرز کو بھی مختلف سزائیں دی گئیں۔
انتظامی طور پر برطرفی کے واقعاتبعض سینیئر افسران کو کورٹ مارشل کے بجائے محکمانہ کارروائی کے تحت برطرف کیا گیا، جن میں سابق آرمی چیف جنرل (ر) ضیا الدین بٹ اور 2016 میں کرپشن کے الزام میں برطرف کیے جانے والے 2 حاضر سروس جنرلز بھی شامل ہیں۔
سپریم کورٹ کے باوجود کورٹ مارشل نہ ہونے کے معاملاتاصغر خان کیس میں سابق آرمی چیف جنرل (ر) اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کے خلاف کارروائی کے احکامات دیے گئے، مگر بعد میں مؤثر پیش رفت نہ ہوسکی۔
یہ بھی پڑھیں:جنرل فیض حمید کو سزا، ’ 9 مئی کے کیسز ابھی باقی ہیں‘، فیصل واوڈا
بعد ازاں جنرل درانی کی کتاب Spy Chronicles پر بھی تحقیقات کا حکم ہوا، مگر کوئی حتمی کارروائی سامنے نہ آسکی۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمیدیاد رہے کہ فیض حمید کے خلاف کارروائی ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے سی ای او کنور معیز خان کی سپریم کورٹ میں دائر درخواست سے شروع ہوئی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ آئی ایس آئی اور رینجرز نے ان کے دفتر اور گھر پر چھاپہ مار کر زیورات، نقدی اور دیگر قیمتی اشیا ضبط کیں۔
ان کے مطابق بعد ازاں فیض حمید نے رابطہ کر کے تمام سامان واپس کرنے کی پیشکش کی، سوائے 400 تولہ سونے اور نقد رقم کے۔ درخواست میں یہ الزام بھی تھا کہ 2 سابق بریگیڈیئرز نے مبینہ طور پر 4 کروڑ روپے نقد اور چند ماہ تک ایک نجی ٹی وی چینل کی سرپرستی پر مجبور کیا۔
سپریم کورٹ نے معاملہ متعلقہ اداروں کو بھیجتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے سنگین الزامات نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ بعد ازاں فیض حمید کو حراست میں لیا گیا اور تقریباً نو ماہ بعد ان پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کی گئی۔
پاکستان میں فیض حمید کی سزا نے ایک بار پھر اس حقیقت کو نمایاں کر دیا ہے کہ فوج میں احتساب کا سلسلہ مختلف ادوار میں جاری رہا ہے، اور کئی بڑے نام عدالتوں اور فوجی قوانین کے تحت جوابدہ بنتے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جنرل فیض حمید کورٹ مارشل لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال مستنصر باللہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنرل فیض حمید کورٹ مارشل مستنصر باللہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کورٹ مارشل سال قید کی سزا
پڑھیں:
زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سال 2026 کے لیے موسم گرما کی تعطیلات سے متعلق بڑا انتظامی فیصلہ کرلیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عدالتی کارکردگی میں بہتری اور زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کو یقینی بنانے کے لیے تعطیلات کا نیا شیڈول مرتب کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اہم فیصلہ چیف جسٹس پاکستان کی درخواست اور ججز کے درمیان باہمی مشاورت کے بعد کیا گیا۔
نئے انتظامات کے تحت سپریم کورٹ کے ججز نے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران اسلام آباد میں واقع پرنسپل سیٹ پر کام کے دورانیے میں اضافے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
اعلامیے کے مطابق ماضی کی روایت کے برعکس اس بار سپریم کورٹ کی برانچ رجسٹریوں میں ججز کے بیٹھنے کے وقت میں کمی کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
تاہم ججز کی جانب سے اصل میں حاصل کی جانے والی تعطیلات کا دورانیہ گزشتہ برسوں کی طرح 4 ہفتے ہی برقرار رہے گا۔
سپریم کورٹ کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ نئے انتظامات کا بنیادی مقصد تعطیلات کے دوران بھی ججز کی دستیابی کو یقینی بنانا اور مقدمات کی سماعت کے عمل کو بلا تعطل جاری رکھنا ہے تاکہ زیر التوا کیسز کے بروقت فیصلوں میں مدد مل سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انتظامی فیصلہ تعطیلات سپریم کورٹ وی نیوز