پی ٹی آئی کی جانب سے آئین میں تبدیلی اور ایک اور انڑا پارٹی الیکشن کرانے کے ارادے پر پارٹی کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے شدید ردعمل دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ورکرز کے بنیادی آئینی حقوق پر ایک اور ڈاکہ ڈالنے کی تیاری نامنظور ہے۔ پی ٹی آئی پر قابض ٹولہ اپنی جماعت کے آئین کی پاسداری نہیں کرسکا وہ ملک کے آئین اور قانون کا کیا تحفظ کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ پی ٹی آئی پر قابض ٹولہ نے بار بار جعلی انڑا پارٹی الیکشن کروائے جس سے پارٹی کو شدید سیاسی اور قانونی نقصان پہنچا۔ 2 دسمبر 2023 کے جعلی انڑا پارٹی الیکشن نے پارٹی کو 8 فروری 2024 کے الیکشن میں ناقابل تلافی قانونی اور سیاسی نقصان پہنچایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 3 مارچ 2024 کو ایک اور جعلی انڑا پارٹی الیکشن کروائے گئے جسے مجھ سمیت دیگر پارٹی ممبران نے 5 مارچ 2024 سے چیلنج کر رکھا ہے۔ ایک سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا، پی ٹی آئی پر قابض ٹولے نے لاہور ہائی کورٹ سے 'سٹے' کے ذریعے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو فیصلہ سنانے سے روک رکھا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ پارٹی پر قابض ٹولہ کی طرف سے پی ٹی آئی کے آئین میں تبدیلی اور ایک اور انڑا پارٹی الیکشن کرانے کا ارادہ اس بات کی تصدیق ہے کہ 3 مارچ 2024 کو کرائے گئے انڑا پارٹی الیکشن بھی جعلی اور غیر قانونی تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی انہوں نے ایک اور کہا کہ

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل