ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز کا قیام تاریخی تبدیلی ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
چیف آف دی آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی خطرات کے تناظر میں اب ضروری ہے کہ پاکستان اپنی عسکری حکمتِ عملی کو ملٹی ڈومین آپریشنز کے جامع اور متحد نظام کے تحت مزید جدید اور مؤثر بنائے۔
نئے قائم کیے گئے ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز میں تینوں مسلح افواج کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے اسے ایک ’تاریخی اور بنیادی تبدیلی‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:
فیلڈ مارشل نے کہا کہ ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز کا قیام اس اسٹریٹیجک تبدیلی کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو تینوں افواج کے آپریشنل رابطے اور ہم آہنگی کو مضبوط بنائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہر سروس اپنی اندرونی خود مختاری، تنظیمی ڈھانچہ اور انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے اپنی آپریشنل تیاریوں کو بہتر بنانے کی ذمہ دار رہے گی۔
جبکہ نیا ہیڈ کوارٹر تینوں افواج کے مشترکہ آپریشنز کو مربوط کرے گا۔
اپنے خطاب میں بھارت کو خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کسی خود فریبی یا گمان کا شکار نہ رہے، اگلی بار پاکستان کا جواب اس سے بھی برق رفتار اور زیادہ شدید ہوگا۔
مزید پڑھیں:
انہوں نے مزید کہا کہ طالبان رجیم کو بھی دوٹوک پیغام دے دیا گیا ہے کہ وہ یا تو پاکستان کے خلاف سرگرم فتنۂ خوارج کا ساتھ چھوڑیں یا پھر اپنے انجام کے لیے تیار رہیں۔
آرمی چیف کے مطابق اس ضمن میں طالبان عبوری حکومت کے پاس کوئی تیسرا راستہ موجود نہیں۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، تاہم کسی بھی ریاست یا گروہ کو پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو للکارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مزید پڑھیں:
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تصور ناقابلِ تسخیر ہے اور اس کی حفاظت جانبازوں کے ایمان، قربانیوں اور قوم کے اتحاد نے ممکن بنا رکھی ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام ’پاکستان ہمیشہ زندہ باد‘ کا نعرہ لگا کرکیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چیف آف آرمی اسٹاف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیف ا ف ا رمی اسٹاف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔