سیف الدین ایڈووکیٹ کا میئر کراچی کے مین ہول فنڈ اعلان پر شدید ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: نائب امیر جماعت اسلامی کراچی اور اپوزیشن لیڈر کے ایم سیف الدین ایڈووکیٹ نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی جانب سے ہر یونین کمیٹی کو ایک لاکھ روپے فنڈ دینے کے اعلان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرتضیٰ وہاب دو سال سے میئر کے طور پر کام کر رہے ہیں اور اس سے قبل دو سال ایڈمنسٹریٹر بھی رہے، مگر اپنے چار سالہ دور اقتدار میں کراچی کے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ہیں، اس لیے انہیں فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایک لاکھ روپے کے اعلان سے شہر کے مسائل حل نہیں ہوں گے اور یہ اقدام صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے مترادف ہے، یہ رقم پہلے بھی جون کے کونسل اجلاس میں اعلان کی گئی تھی، مگر چھ ماہ بعد بھی کسی یونین کمیٹی کو منتقل نہیں کی جا سکی، 50 ہزار آبادی والے علاقوں میں صرف 50 مین ہول ڈھکن لگانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
سیف الدین ایڈووکیٹ نے بتایا کہ کراچی میونسپل کارپوریشن کے پاس 5,500 ارب روپے کا بجٹ ہے، سندھ حکومت کا بجٹ 3,500 ارب روپے ہے، جبکہ واٹر کارپوریشن کے چیئرمین مرتضیٰ وہاب نے 1.
سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ مرتضیٰ وہاب نے بطور چیئرمین واٹر کارپوریشن 20 ارب روپے پانی و سیوریج کے بلوں سے وصول کیے جبکہ میونسپل ٹیکس کے نام پر کے الیکٹرک کے بلوں کے ذریعے 4 ارب روپے بھی حاصل کیے گئے ہیں، ایک لاکھ روپے دینے کے بجائے ان 24 ارب روپے کا حساب پیش کرنا ضروری ہے۔
سیف الدین نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے مطابق سیوریج کے مسائل یونین کمیٹیوں کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے، اس لیے یہ ادارے واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے ماتحت ہونے چاہئیں، پیپلزپارٹی یوسیز اور ٹاؤن کو مفلوج رکھ کر وسائل پر قابض رہنا چاہتی ہے اور ایک لاکھ روپے کے اعلان کے ذریعے آئندہ حادثات کی روک تھام کی ذمہ داری اپنے کندھوں سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیف الدین ایڈووکیٹ ایک لاکھ روپے ارب روپے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔