غیر قانونی جالوں کے استعمال کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی‘علی ملکانی
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ میں مچھلی کے شکار میں استعمال ہونے والے غیر قانونی جالوں کے استعمال کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ ان سے آبی حیات کی نسل کشی ہو رہی ہے۔ ہم اس حوالے سے قانون میں مزید ترمیم کرنے جا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سندھ کے صوبائی وزیر لائیو اسٹاک اینڈ فشریز محمد علی ملکانی نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر ماہی گیری کی صنعت سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔منگل کے روز صوبائی وزیر لائیو اسٹاک اینڈ فشریز کی زیر صدارت قانون میں ترمیم سے متعلق اجلاس میں سندھ اسمبلی میں فشریز کے پارلیمانی سیکریٹری اور ایم پی اے آصف خان، رکن سندھ اسمبلی محمود عالم جاموٹ، سیکریٹری لائیو اسٹاک اینڈ فشریز سندھ ڈاکٹر کاظم حسین جتوئی، چیئرپرسن فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی فاطمہ مجید، چیئرمین فشر فوک فورم غلام مصطفیٰ میرانی، ڈائریکٹر جنرل میرین فشریز حکومتِ پاکستان ڈاکٹر منصور وسّان، ڈائریکٹر جنرل سندھ میرین فشریز ڈاکٹر عاصم حسین، پاکستان فشریز ایکسپورٹ ایسوسی ایشن، سندھ ٹرالر ایسوسی ایشن کے نمائندگان سمیت کراچی فشریز ہاربر اتھارٹی کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر صوبائی وزیر محمد علی ملکانی نے کہا کہ بولو گجو جال نسل کشی کرنے والا جال ہے اور ماہی گیری کی صنعت سے وابستہ کوئی بھی فریق اس کے استعمال کی حمایت نہیں کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔