تحریک انصاف ،پیپلز پارٹی سے سیاسی مفاہمت کیلئے تیار
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے رابطے کرنے کا فیصلہ
پیپلز پارٹی کو دو روزہ قومی کانفرنس میں شرکت کی دعوت،نون لیگ کو نہیں دی جائیگی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بڑا سیاسی فیصلہ کرتے ہوئے سیاسی مفاہمت کے لیے ایک قدم آگے بڑھانے پر تیار ہوگئی ہے۔میڈیا ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی سیاسی مفاہمت کے لیے ایک قدم آگے بڑھانے پر تیار ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے رابطے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے رابطہ اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے ہوگا اور پیپلز پارٹی کو دو روزہ قومی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کو قومی کانفرنس میں دعوت نہیں دی جا رہی ہے۔اس ضمن میں ذرائع نے مزید بتایا کہ قومی کانفرنس میں سیاسی ڈائیلاگ کے لیے راستہ نکالنے پر غور ہو گا جبکہ اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی جانب سے مذاکرات کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی شرط رکھی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: قومی کانفرنس میں پیپلز پارٹی پی ٹی ا ئی کے لیے
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔