سہیل آفریدی کا سخت ردعمل: ’فیض حمید کی سزا ادارے کا کام—اصل کھیل تو بانی PTI کو مائنس کرنے کا ہے
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہےکہ فیض حمید ایک ادارےکے ملازم تھے، اگر کسی معاملے پر فیض حمیدکو سزا ہوئی ہے تو یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے۔بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے آئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی پاکستان اور اداروں کی مضبوطی کی بات کرتے ہیں، صاحب اختیار لوگ اگر سمجھتے ہیں تو ہمارے ساتھ مذاکرات کریں، مذاکرات کا اختیار بانی نے محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو دیا ہے، محمود خان اچکزئی کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ایک وزیر اعلیٰ کو عدالتی احکامات کے باوجود ملنے نہیں دیا جارہا، پرسوں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے ساتھ جو ہوا وہ وزیراعلیٰ پنجاب کے احکامات پر کیا گیا، بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو ناحق قید رکھا گیا ہے، یہ لوگ تصدیق شدہ چور ہیں، جب ہماری حکومت آئےگی تو اس کا حساب کتاب کیا جائےگا۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ساڑھے تین سال سے کوشش کی جارہی ہے مائنس بانی پی ٹی آئی کیا جائے، یہ 1947 سے ایک ہی نسخہ بار بار آزماتے ہیں، 9 اپریل 2022 سے ان کا واسطہ ایسی قوم سے پڑا ہے جو بانی پی ٹی آئی سے عشق کرتی ہے، ہم آزاد عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی چاہتے ہیں، یہ کون ہوتے ہیں کہ ہمیں بتائیں کہ کس وقت تک بیٹھنا ہے اور کس وقت تک نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کارکردگی یہ ہے کہ نوجوان پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، ساڑھے تین سال سے کیا جانے والا تجربہ بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی کا کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی وزیر اعلی
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔