بانیٔ پی ٹی آئی کی بہنوں کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
بانیٔ پی ٹی آئی کی بہنوں کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا، اس موقع پر علیمہ خان کی جانب سے کارکنان کو پرسکون رہنے کی ہدایت کی گئی۔
علیمہ خان کارکنان کو ناکے سے پیچھے ہٹاتی رہیں اور کارکنوں سے مخاطب ہو کر انہوں نے کہا کہ پولیس کے ساتھ ہماری کوئی لڑائی نہیں، پولیس والے ہمارے بھائی ہیں، یہ ہمارے ساتھ بہت اچھے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کارکنوں کو اس لیے پیچھے کر رہی ہوں کیوں کہ خواتین ساتھ ہیں، پولیس والے خود پریشان ہیں، ملاقات کی اجازت عرصے سے نہیں دی جا رہی، میری بہن نے گزشتہ ملاقات پر کوئی سیاسی گفتگو نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیے علیمہ خان کا گورکھ پور ناکے پر دھرنا 10 گھنٹے بعد ختمعلیمہ خان نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کو کس کے احکامات پر قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے؟ ہم ملاقات کے لیے آئے، پچھلے ایک ماہ سے اسی مقصد کے لیے آ رہے ہیں، صحافی سوچ کر بات کیا کریں ورنہ میں بات نہیں کروں گی۔
دوسری جانب روالپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کا وقت ختم ہو گیا۔
آج بانی سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر علیمہ خان اور سلمان اکرم راجہ نے مشاورت کی۔
اس مشاورت میں ثناء اللّٰہ مستی خیل، ڈاکٹر شبیر قریشی اور دیگر بھی شریک ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علیمہ خان
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔