بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے روک دیا گیا،فیض حمید اداروں کا اندرونی معاملہ ہیں، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور:وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نےکہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید سے متعلق معاملات ادارے کے اندرونی ہیں اور اگر ان کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی ہے تو یہ اسی دائرے میں طے پانا چاہی، فیض حمید ایک ادارے کے ملازم تھے، اس لیے اُن سے متعلق فیصلوں کی ذمہ داری بھی اسی ادارے پر عائد ہوتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے نویں مرتبہ آئے لیکن اس بار بھی عدالتی احکامات کے باوجود ملنے کی اجازت نہیں دی گئی،ایک منتخب صوبائی وزیر اعلیٰ کو اپنے قائد سے ملاقات نہ کرنے دینا آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ دو روز قبل بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ پنجاب حکومت کے احکامات پر ہوا، جو نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ سیاسی انتقام کی عکاسی بھی کرتا ہے، بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو ناحق قید میں رکھا گیا ہے جبکہ موجودہ حکمران خود ’تصدیق شدہ چور ہیں، جن کا احتساب آنے والی حکومت ضرور کرے گی۔
مذاکرات سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنی جماعت کی جانب سے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو دیا ہے اور وہ اچکزئی کے ہر فیصلے کی مکمل حمایت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مقتدر حلقے سمجھتے ہیں تو مذاکرات ہمارا آئینی حق ہیں۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ ساڑھے تین سال سے مسلسل کوشش کی جارہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو سیاست سے باہر کیا جائے، لیکن 9 اپریل 2022 کے بعد قوم ایسے فیصلے قبول کرنے کو تیار نہیں،ہ پاکستان کے نوجوان ملک چھوڑ رہے ہیں اور موجودہ حکومت کا تجربہ بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔ ’’یہ کون ہوتے ہیں ہمیں بتانے والے کہ کب بیٹھنا ہے اور کب نہیں؟‘‘ وزیر اعلیٰ نے سوال اٹھایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی وزیر اعلی
پڑھیں:
وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی اور انہیں علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا ۔ جمعے کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وزیر تجارت نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات بڑھانے اور عالمی مسابقت بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی اورپاکستانی قالینوں کی عالمی منڈیوں میں رسائی اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے پالیسی اقدامات کا جائزہ بھی لیا۔وفد نے علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات سے وزیر تجارت کو آگاہ کیا۔(جاری ہے)
وفد نے کہا کہ کاروبار دوست اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک برآمدات کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ جام کمال نے کہا کہ حکومت شفاف، قواعد پر مبنی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے،وزارتِ تجارت صنعت کی تجاویز پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد قابلِ عمل حل تیار کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی ویلیو ایڈیشن، برآمدی صنعت، برانڈنگ اور عالمی ویلیو چینز میں شمولیت پر مرکوز ہے، حکومت نجی شعبے کے تعاون سے تجارت میں حائل حقیقی رکاوٹیں دور کر کے برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔\932