اپنے بھائی کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے، علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ ہم واٹر کینن سے گھبرانے والے نہیں۔ اپنے بھائی کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان نے کہا کہ یہ غیرقانونی عمل ہے، ہم آج عدالت سے لیٹ ہوئے تو غیرحاضری لگادی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی سے 2 ماہ میں صرف 40 منٹ ملاقات ہوئی، بانی پی ٹی آئی سے صرف ایک گھنٹہ ملاقات ہوئی ہے۔
عدالت نے علیمہ خان کے قابل ضمانت وارنٹ اور ضمانت منسوخی کے نوٹس بھی جاری کر دیے
علیمہ خان نے کہا کہ ان لوگوں کو شرم آنی چاہیے جو کہتے ہیں خواتین رات 2 بجے کیا کر رہی تھیں، رات 2 بجے ہم اپنے حق کے لیے جیل کے باہر بیٹھی تھیں۔
واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کے ضمانتی مچلکے ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں علیمہ خان اور ان کے وکلاء عدالت پیش نہیں ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔