وزیرِ اعظم کی صدر ترکمانستان سے ملاقات، تجارتی و اقتصادی روابط مضبوط بنانے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی اشک آباد میں ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمدوف سے دو طرفہ ملاقات ہوئی ہے۔
ملاقات کے دوران پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات بالخصوص تجارتی اور اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے رواں برس کے آغاز پر ایران اسرائیل جنگ کے دوران پاکستانی شہریوں کو ایران سے بحفاظت نکالنے کے لیے فراہم کیے جانے والے تعاون پر ترکمان قیادت اور حکومت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
وزیرِ اعظم نے ترکمانستان کے ساتھ زمینی اور سمندری راستوں کے ذریعے روابط بڑھانے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا اور کہا کہ کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کا جغرافیہ مثالی ہے جسے ترکمانستان جنوبی ایشیاء اور اس سے باہر اپنی رسائی کو بڑھانے کے لیے استعمال کر کے بروئے کار لا سکتا ہے۔
ترکمانستان کی جانب سے پاکستانی وفد کی شاندار مہمان نوازی پر ترکمان صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ترکمانستان کے عوام کے قومی رہنماء گربنگولی بردی محمدوف کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
وزیرِ اعظم نے ترکمانستان کی عوام کے قومی رہنما اور صدر سردار بردی محمدوف کو آئندہ برس پاکستان کے سرکاری دورے کرنے کی دعوت کا اعادہ کیا۔
ترکمانستان کے صدر نے وزیرِ اعظم کے دورے اور امن و اعتماد کے بین الاقوامی فورم میں شرکت پر شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ ترکمانستان پاکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے متعدد شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بڑھانے کا خواہاں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ترکمانستان کے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔