data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسپورٹس رپورٹر) پاکستان میں ٹیپ بال کرکٹ کے فروغ اور اسے بین الاقوامی معیار پر روشناس کرانے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان ٹیپ بال پریمیئر لیگ (PTPL) اور ملک کے معروف کاروباری ادارے پاپولر گروپ آف انڈسٹریز کے مابین ایک اہم اشتراک کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس پروقار تقریب میں معاہدے پر پاکستان ٹیپ بال پریمیئر لیگ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) خرم مجید اور پاپولر گروپ آف انڈسٹریز کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) شہباز علی ملک نے دستخط کیے۔ اس موقع پر دونوں اداروں کے دیگر اعلیٰ عہدیداران اور کھیلوں سے وابستہ شخصیات بھی موجود تھیں۔ اس موقع پر پاپولر گروپ کے ڈائریکٹر عمران روشن بھی موجود تھے۔ معاہدے کے تحت، پاپولر گروپ اور پی ٹی پی ایل کے اشتراک سے2026 میں ایک شاندار ٹیپ بال کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا جائے گا۔ منتظمین کے مطابق یہ میگا ایونٹ کراچی یا لاہور میں سے کسی ایک شہر میں منعقد ہوگا، جس میں ملک بھر سے بہترین ٹیپ بال اسٹارز ایکشن میں نظر آئیں گے۔ اس لیگ کا مقصد گلی محلوں میں کھیلے جانے والے اس مقبول کھیل کو پروفیشنل پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاپولر گروپ آف انڈسٹریز کے ایم ڈی شہباز علی ملک نے کہا کہ صحت مند معاشرے کی تشکیل میں کھیلوں کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا عزم ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جائے۔ جب کھیلوں کے میدان آباد ہوتے ہیں تو اسپتال ویران ہو جاتے ہیں۔ پاپولر گروپ ہمیشہ سے کھیلوں کی سرپرستی کرتا آیا ہے اور ہم مستقبل میں بھی اس قومی فریضے میں اپنا بھرپور تعاون جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیپ بال کرکٹ پاکستان کا سب سے زیادہ کھیلا جانے والا کھیل ہے اور اس ٹورنامنٹ کے ذریعے ہم چھپے ہوئے ٹیلنٹ کو دنیا کے سامنے لائیں گے۔ پاکستان ٹیپ بال پریمیئر لیگ کے سی ای او خرم مجید نے پاپولر گروپ کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داری پاکستان میں ٹیپ بال کرکٹ کے مستقبل کو روشن کرے گی اور کھلاڑیوں کو مالی و پیشہ ورانہ سطح پر مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

اسپورٹس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ٹیپ بال کرکٹ کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو