Jasarat News:
2026-07-24@05:10:30 GMT

اساسِ قرآن

اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

قرآن کریم کا مطالعہ جو ذہن بناتا ہے اُس میں بڑا سلجھائو اور سادگی پائی جاتی ہے۔ اس قسم کا قرآنی ذہن کلامی نکتہ آفرینیوں اور فلسفیانہ موشگافیوں اور متصوفانہ لطائف میں دلچسپی نہیں لیتا۔
قرآن کریم مصنّفوں کی لکھی ہوئی کتابوں اور اہل قلم کے مرتب کیے ہوئے مجموعوں کی طرح کوئی کتاب نہیں ہے، جن میں عنوانات ہوں اور ہر عنوان کے تحت ذیلی ابواب اور حواشی ہوں اور جب ایک مضمون ختم ہوجائے تو پھر دوسرا شروع کیا جائے۔ قرآن کا اندازِ بیان تحریری و تصنیفی نہیں، تقریری ہے۔ جو لوگ عام تصانیف و تالیف پر قرآن کریم کا قیاس کرکے اُس کا مطالعہ کرتے ہیں، اُنھیں قرآن کریم کی آیتوں اور مضامین میں بے ربطی محسوس ہوتی ہے۔ قرآن کریم اس قسم کی تصنیف سرے سے ہے ہی نہیں۔
نظم قرآن کا محور یہ ہے کہ اس کتابِ بے مثال میں بار بار اور جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور شانِ خلاقیت کا ذکر ہے۔ قرآن بار بار آخرت کے محاسبہ کی یاد دلاتا ہے۔ وہ اُن لوگوں کا بھی ذکر کرتا ہے جن پر اللہ کا انعام ہوا ہے اور اُن کا بھی جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا۔ کسی فرد یا قوم کا ذکر ہو، آثار و مشاہدات کی تفصیل ہو، معاشرے کے لیے کسی قانون و حکم کی تنفیذ کا اعلان ہو، ہر موقع پر قرآن کریم ذہنِ انسانی کو یاد دلاتا اور چونکاتا رہتا ہے کہ:
اللہ تعالیٰ اُس کا خالق اور ربّ ہے۔
انسان کو دُنیا میں وہ زندگی گزارنی چاہیے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔
اس دُنیوی زندگی کے اعمال کی بنا پر آخرت میں جزا و سزا ملے گی۔

قرآن کریم کا ہر مضمون اسی دعوت کے اردگرد گردش کرتا ہے، اسی کی جگہ جگہ تکرار کی گئی ہے اور یہی ’تذکیر‘ اس دعوت کا عمود اور مرکزی نکتہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم لکھا لکھایا، مکہ کی کسی پہاڑی پر یا درخت پر نہیں رکھوا دیا تھا، بلکہ اُسے نجماً نجماً سیّدنا محمد (ابن عبداللہ) علیہ الصلوٰۃ والتسلیم پر نازل فرمایا، اور اس نزول کے ساتھ صاحب ِ قرآن اور مہبط ِ وحی الٰہی کا جو منصب تھا، اُس کا ذکر بھی قرآن ہی میں کردیا گیا:
”درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ اُن کے درمیان خود انھی میں سے ایسا پیغمبرؐ اُٹھایا جو اُس کی آیات انھیں سناتا ہے، اُن کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے“ (اٰل عمران : 164)۔
دُنیا کے قدیم و جدید طریقۂ تعلیم میں ہر معلّم جس کسی کتاب کی تعلیم دیتا ہے تو وہ یہ نہیں کرتا کہ اپنی طرف سے کتاب کی شرح و تفصیل میں کچھ نہ کہے، بلکہ کتاب کی اصل عبارت کو دُہراتا رہے۔ کتاب کی تعلیم کے معنٰی ہی یہ ہیں اور یہی تعلیم کی غرض و غایت ہے کہ معلّم جن مقامات کی مناسب سمجھتا ہے شرح کرتا جاتا ہے اور بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ طلبہ اور شاگرد بھی کتاب کے بارے میں اُستاد سے سوال کرتے ہیں۔ وہ اُ ن کے جواب دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے رسولؐ کو ’کتاب و حکمت‘ کی تعلیم کے منصب پر مامور فرمایا تھا۔ اس منصب کی ذمے داریوں کو رسولؐ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبی ؑ کی حیثیت سے انجام دیا۔ رسول ؐاللہ کے اس منصب کو ذہن میں رکھ کر نطقِ رسولؐ کے بارے میں قرآن کریم کا فیصلہ سنیے:
”(یہ نبیؐ) اپنے (نفس کی) خواہش سے کلام نہیں کرتا۔ اس کا کلام تو وحی ہوتا ہے“ (النجم: 3-4)۔
(1) تلاوتِ قرآن (2) تزکیۂ نفس اور (3) کتاب و حکمت کی تعلیم وہ فرائض اور ذمے داریاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسولؐ کو تفویض کی گئی تھیں اور قرآن کریم نطقِ رسولؐ کو وحی کہتا ہے، یعنی جو زبان کتاب اللہ کی تلاوت کرتی تھی وہی زبان کتاب اللہ کی تعلیم بھی دیتی تھی، اور قدیم اور جدید طریق تعلیم میں کتاب کی تعلیم سے مراد کتاب کے مضامین کی شرح و تفصیل ہی ہوتی ہے۔ اس لیے رسولؐ نے کتاب و حکمت کی جو تعلیم دی وہ بھی وحی الٰہی ہے اور چونکہ کتاب و حکمت کی تعلیم کا فریضہ رسولؐ نے نبی ہونے کی حیثیت سے انجام دیا ہے، اس لیے وہ منصوص ہے اور اس کی اطاعت اُمت پر فرض ہے۔

ماہر القادریؒ گلزار

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کتاب و حکمت کی قرا ن کریم کا اللہ تعالی کی تعلیم کتاب کی ہے اور

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف