data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
قرآن کریم کا مطالعہ جو ذہن بناتا ہے اُس میں بڑا سلجھائو اور سادگی پائی جاتی ہے۔ اس قسم کا قرآنی ذہن کلامی نکتہ آفرینیوں اور فلسفیانہ موشگافیوں اور متصوفانہ لطائف میں دلچسپی نہیں لیتا۔
قرآن کریم مصنّفوں کی لکھی ہوئی کتابوں اور اہل قلم کے مرتب کیے ہوئے مجموعوں کی طرح کوئی کتاب نہیں ہے، جن میں عنوانات ہوں اور ہر عنوان کے تحت ذیلی ابواب اور حواشی ہوں اور جب ایک مضمون ختم ہوجائے تو پھر دوسرا شروع کیا جائے۔ قرآن کا اندازِ بیان تحریری و تصنیفی نہیں، تقریری ہے۔ جو لوگ عام تصانیف و تالیف پر قرآن کریم کا قیاس کرکے اُس کا مطالعہ کرتے ہیں، اُنھیں قرآن کریم کی آیتوں اور مضامین میں بے ربطی محسوس ہوتی ہے۔ قرآن کریم اس قسم کی تصنیف سرے سے ہے ہی نہیں۔
نظم قرآن کا محور یہ ہے کہ اس کتابِ بے مثال میں بار بار اور جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور شانِ خلاقیت کا ذکر ہے۔ قرآن بار بار آخرت کے محاسبہ کی یاد دلاتا ہے۔ وہ اُن لوگوں کا بھی ذکر کرتا ہے جن پر اللہ کا انعام ہوا ہے اور اُن کا بھی جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا۔ کسی فرد یا قوم کا ذکر ہو، آثار و مشاہدات کی تفصیل ہو، معاشرے کے لیے کسی قانون و حکم کی تنفیذ کا اعلان ہو، ہر موقع پر قرآن کریم ذہنِ انسانی کو یاد دلاتا اور چونکاتا رہتا ہے کہ:
اللہ تعالیٰ اُس کا خالق اور ربّ ہے۔
انسان کو دُنیا میں وہ زندگی گزارنی چاہیے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔
اس دُنیوی زندگی کے اعمال کی بنا پر آخرت میں جزا و سزا ملے گی۔
قرآن کریم کا ہر مضمون اسی دعوت کے اردگرد گردش کرتا ہے، اسی کی جگہ جگہ تکرار کی گئی ہے اور یہی ’تذکیر‘ اس دعوت کا عمود اور مرکزی نکتہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم لکھا لکھایا، مکہ کی کسی پہاڑی پر یا درخت پر نہیں رکھوا دیا تھا، بلکہ اُسے نجماً نجماً سیّدنا محمد (ابن عبداللہ) علیہ الصلوٰۃ والتسلیم پر نازل فرمایا، اور اس نزول کے ساتھ صاحب ِ قرآن اور مہبط ِ وحی الٰہی کا جو منصب تھا، اُس کا ذکر بھی قرآن ہی میں کردیا گیا:
”درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ اُن کے درمیان خود انھی میں سے ایسا پیغمبرؐ اُٹھایا جو اُس کی آیات انھیں سناتا ہے، اُن کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے“ (اٰل عمران : 164)۔
دُنیا کے قدیم و جدید طریقۂ تعلیم میں ہر معلّم جس کسی کتاب کی تعلیم دیتا ہے تو وہ یہ نہیں کرتا کہ اپنی طرف سے کتاب کی شرح و تفصیل میں کچھ نہ کہے، بلکہ کتاب کی اصل عبارت کو دُہراتا رہے۔ کتاب کی تعلیم کے معنٰی ہی یہ ہیں اور یہی تعلیم کی غرض و غایت ہے کہ معلّم جن مقامات کی مناسب سمجھتا ہے شرح کرتا جاتا ہے اور بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ طلبہ اور شاگرد بھی کتاب کے بارے میں اُستاد سے سوال کرتے ہیں۔ وہ اُ ن کے جواب دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے رسولؐ کو ’کتاب و حکمت‘ کی تعلیم کے منصب پر مامور فرمایا تھا۔ اس منصب کی ذمے داریوں کو رسولؐ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبی ؑ کی حیثیت سے انجام دیا۔ رسول ؐاللہ کے اس منصب کو ذہن میں رکھ کر نطقِ رسولؐ کے بارے میں قرآن کریم کا فیصلہ سنیے:
”(یہ نبیؐ) اپنے (نفس کی) خواہش سے کلام نہیں کرتا۔ اس کا کلام تو وحی ہوتا ہے“ (النجم: 3-4)۔
(1) تلاوتِ قرآن (2) تزکیۂ نفس اور (3) کتاب و حکمت کی تعلیم وہ فرائض اور ذمے داریاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسولؐ کو تفویض کی گئی تھیں اور قرآن کریم نطقِ رسولؐ کو وحی کہتا ہے، یعنی جو زبان کتاب اللہ کی تلاوت کرتی تھی وہی زبان کتاب اللہ کی تعلیم بھی دیتی تھی، اور قدیم اور جدید طریق تعلیم میں کتاب کی تعلیم سے مراد کتاب کے مضامین کی شرح و تفصیل ہی ہوتی ہے۔ اس لیے رسولؐ نے کتاب و حکمت کی جو تعلیم دی وہ بھی وحی الٰہی ہے اور چونکہ کتاب و حکمت کی تعلیم کا فریضہ رسولؐ نے نبی ہونے کی حیثیت سے انجام دیا ہے، اس لیے وہ منصوص ہے اور اس کی اطاعت اُمت پر فرض ہے۔
ماہر القادریؒ
گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کتاب و حکمت کی قرا ن کریم کا اللہ تعالی کی تعلیم کتاب کی ہے اور
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔