کراچی:

سری لنکا نے پاکستان خصوصاً کراچی کی مارکیٹ میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سیاحت سے متعلق ایک اہم بی ٹو بی روڈ شو اور نیٹ ورکنگ ایونٹ کا انعقاد کیا۔

 مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب کا مقصد پاکستانی ٹریول انڈسٹری کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا اور دونوں ملکوں کے درمیان سیاحتی روابط میں نئی توانائی پیدا کرنا تھا۔

 اس پروگرام کا انعقاد سری لنکا کنونشن بیورو نے وزارتِ خارجہ، وزارتِ بیرونِ ملک روزگار و سیاحت، قونصل جنرل آف سری لنکا کراچی اور سری لنکن ایئرلائنز کے تعاون سے کیا۔

تقریب میں پاکستانی ٹریول ٹریڈ کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جنہوں نے سری لنکا کے وفد کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور سیاحتی شعبے میں نئے مواقع پر بات چیت کی۔

سری لنکا کے وفد میں ملک کی نمایاں ڈیسٹینیشن مینجمنٹ کمپنیاں شامل تھیں جنہوں نے پاکستانی ٹور آپریٹرز کو سری لنکا میں سیاحت، کاروباری سرگرمیوں، گروپ ٹورز نےمیٹنگز، انسنٹیوز، کانفرنسز اور ایگزیبیشنز کے حوالے سے سہولتوں اور خدمات سے آگاہ کیا۔

 تقریب کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ سری لنکا سال بھر کے لیے پوری طرح کھلا اور محفوظ سیاحتی مقام ہے جہاں تفریح، کاروبار، ثقافت، قدرتی مقامات اور مہم جوئی سمیت ہر طرح کے مسافروں کے لیے بھرپور مواقع موجود ہیں۔

سال 2025 میں 20 ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں نے سری لنکا کا دورہ کیا جو دوطرفہ سیاحتی تعلقات میں مثبت رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سلسلے میں سری لنکن ائیرلائنز کی جانب سے پاکستان کے لیے ہفتہ وار 8براہِ راست پروازیں جن میں سے 4 کراچی اور4 لاہور سے دونوں ملکوں کے درمیان سفر کو مزید سہل بنا رہی ہیں۔ ویزا سہولتوں میں بہتری اور بین الاقوامی سفر کی بحالی نے بھی پاکستانی مسافروں کی دلچسپی میں اضافہ کیا ہے۔

تقریب میں سری لنکا کے روایتی رقص کا مظاہرہ بھی پیش کیا گیا جس نے شرکا کو سری لنکا کی ثقافت اور ورثے سے روشناس کرایا۔اس موقع پر قونصل جنرل آف سری لنکا کراچی، سنجیوا پٹی ویلا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور دوستانہ تعلقات ہمیشہ مضبوط رہے ہیں۔

 انہوں نے پاکستانی عوام کو سری لنکا کی قدرتی خوبصورتی، ساحلی مقامات، جنگلات، تاریخی ورثے اور گرمجوش مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونے کی دعوت دی۔ انہوں نے نومبر 2025 میں طوفان دِتوا کے بعد پاکستان کی جانب سے فراہم کی گئی انسانی ہمدردی پر مبنی مدد پر بھی شکریہ ادا کیا۔

سری لنکا کنونشن بیورو کے چیئرمین دھیرا ہٹیا راچچی نے کہا کہ پاکستان سری لنکا کے لیے خطے کی ایک اہم مارکیٹ ہے جہاں سے آنے والے سیاح نہ صرف تفریح بلکہ کاروباری مقاصد کے لیے بھی سری لنکا کا رخ کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سری لنکا سیاحت کے شعبے میں خصوصی معاونت فراہم کرتا ہے اور پاکستانی کاروباری گروپس اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

سری لنکن ایئرلائنز پاکستان کے مینیجر روان وجیکون نے اس موقع پر کہا کہ ایئرلائن پاکستان اور سری لنکا کے درمیان فضائی روابط کو مزید بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے اور خصوصی کرایوں اور سہولتوں کے ذریعے پاکستانیوں کے لیے سفر کو مزید آسان بنایا جا رہا ہے۔

تقریب کے اختتام پر یہ بات واضح ہوئی کہ پاکستان تیزی سے ایک ابھرتی ہوئی آؤٹ باؤنڈ مارکیٹ ہے جہاں کے مسافر ثقافتی تجربات، قدرتی مناظر، مہم جوئی اور کاروباری سفر میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، جبکہ سری لنکا ان تمام شعبوں میں مسافروں کو معیاری اور منفرد تجربات فراہم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

کراچی میں منعقدہ اس روڈ شو نے دونوں ملکوں کے درمیان سیاحت، تجارت اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی بنیاد رکھ دی ہے جس سے مستقبل میں دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سری لنکا کے کے درمیان کو مزید کے لیے

پڑھیں:

جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا

بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43

— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026

رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • سمرکیمپ سے متعلق احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، وزیر تعلیم پنجاب
  • چیئرمین سینیٹ سے اٹالین سفیر کی غیر رسمی ملاقات ،دونوںملکوں کے تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال